دو سال قبل ترکی کی تاریخ کے سب سے تباہ کن اور جان لیوا زلزلے کے بعد آج بھی لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور کئی لوگ عارضی رہائش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
6 فروری 2023 کو 7.8 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے جھٹکوں نے ترکی کے 11 صوبوں اور شمالی شام کے کچھ حصوں کو لرزا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 55,000 سے زائد افراد جاں بحق اور 107,000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
اس زلزلے نے پورے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، جس میں رہائشی مکانات، ہسپتال، تاریخی مقامات اور دیگر اہم عمارتیں شامل تھیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہاتائے، کہرامان ماراش اور ادیامان تھے، جہاں زلزلے نے شدید تباہی مچائی اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے۔
ترک حکومت نے زلزلے کے بعد 650,000 مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ صدر رجب طیب اردوان نے ابتدائی طور پر اعلان کیا تھا کہ 319,000 گھر ایک سال کے اندر مکمل کر دیے جائیں گے۔
تاہم، تعمیر نو کی رفتار ابتدائی وعدوں کے مقابلے میں سست رہی ہے اور کئی متاثرہ افراد اب بھی کنٹینر ہاؤسز یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
پیر کے روز کابینہ اجلاس کے بعد صدر اردوان نے اعلان کیا کہ زلزلے کے دو سال بعد 201,431 رہائشی یونٹس ان کے اصل مالکان کو دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
دوسری جانب، ترکی کے وزیر برائے ماحولیات و شہری ترقی، مرات کروم نے بتایا کہ حکومت نے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو پر 75 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں اور بیشتر اہم منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2025 کے آخر تک 423,000 مکانات اور کاروباری مراکز متاثرہ افراد کو فراہم کر دیے جائیں گے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بحالی کا عمل منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور تمام بے گھر افراد کو جلد از جلد مستقل رہائش فراہم کر دی جائے گی۔
تاہم، مرکزی اپوزیشن پارٹی (CHP) کے رہنما اوزگور اوزل نے حکومت کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک صرف 30 فیصد تعمیر نو مکمل ہوئی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر ہاتائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں صرف 18 فیصد مکانات مکمل ہوئے ہیں، جو وعدے کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔
انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دو سال پہلے اردوان پر بھروسہ کر رہے تھے، ان میں سے صرف تین کو گھر ملے ہیں، جبکہ باقی سات افراد اب بھی کنٹینرز میں رہنے پر مجبور ہیں یا اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
حکومت کے وزرا ان بے گھر افراد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے تمام وعدے پورے کر دیے؟ عوام نے حکومت پر اعتماد کیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود ہزاروں خاندان اپنے گھروں کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی اور مقامی امدادی اداروں کے مطابق زلزلے کے متاثرین کی مکمل بحالی ابھی بھی ایک دور کا خواب ہے، کیونکہ لاکھوں افراد اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہاتائے زلزلہ متاثرین ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 4 لاکھ سے زائد افراد اب بھی کنٹینر ہاؤسز میں رہ رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات جیسے صفائی، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
متاثرین کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں، جن میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی، پانی اور بجلی کی عدم دستیابی، اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ زلزلے سے تباہ شدہ عمارتوں کے غیر منظم انہدام کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسبیسٹوس (asbestos) نامی مضرِ صحت مادے کے خطرے سے دوچار ہیں، جو سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتوں کے ملبے کو بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے ہٹایا جا رہا ہے، جس کے باعث ہوا میں خطرناک ذرات شامل ہو رہے ہیں جو مقامی آبادی کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ہنگامی حکمناموں کے تحت زمینوں کی ضبطی نے بھی کئی متاثرین کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، کیونکہ کئی خاندانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور وہ ابھی تک اپنی قانونی حیثیت کے بارے میں لاعلم ہیں۔
بین الاقوامی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ (IFRC) کا کہنا ہے کہ ترکی اور شام میں لاکھوں افراد ابھی بھی اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بحالی کی رفتار ایک بڑے انسانی بحران کے مقابلے میں بہت زیادہ سست ہے، جس سے متاثرہ افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں روزگار کے مواقع بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ زلزلے کے بعد کئی فیکٹریاں، دکانیں اور کاروباری مراکز تباہ ہو گئے تھے۔
بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی خاندان اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے امدادی اداروں پر انحصار کر رہے ہیں۔
زلزلے کے بعد ہاتائے جیسے شہر اب بھی ویران گلیوں، بند دکانوں اور جاری انہدامی کاموں کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔
کبھی مختلف ثقافتوں اور مذاہب کا مرکز سمجھا جانے والا ہاتائے آج بھی ایک اداس منظر پیش کر رہا ہے، جہاں مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع زبردست متاثر ہوئے ہیں۔

کئی امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیر نو میں تاخیر جاری رہی تو خطے میں آبادی کا مستقل انخلا ہو سکتا ہے، کیونکہ بے گھر ہونے والے کئی خاندان پہلے ہی دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
کئی خاندان جو پہلے ہاتائے اور دیگر متاثرہ علاقوں میں آباد تھے، اب ترکی کے بڑے شہروں جیسے استنبول، انقرہ اور ازمیر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے زلزلے کے بحران کا موثر انداز میں جواب دیا ہے اور تعمیر نو کا عمل منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔
مرات کروم نے کہا کہ ترکی نے بحالی کے لیے 584 بلین ترک لیرا ($19 بلین) مختص کیے ہیں، جس سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی ترقی کو تیز کیا جائے گا۔
تاہم، متاثرین کا کہنا ہے کہ امداد اور بحالی کے عمل میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔
دو سال بعد بھی، ترکی میں زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
جہاں حکومت اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کر رہی ہے، وہیں اپوزیشن اور امدادی تنظیمیں صورتحال کو تشویشناک قرار دے رہی ہیں۔
کنٹینرز میں مقیم ہزاروں بے گھر افراد، سست تعمیر نو، غیر یقینی مستقبل اور بے روزگاری کے باعث زلزلہ متاثرین کی مشکلات برقرار ہیں۔
اگرچہ حکومت 2025 کے آخر تک تمام بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ وعدے عملی شکل اختیار کر سکیں گے یا نہیں۔