سعودی عرب کی میزبانی میں ریاض میں امریکہ اور روس کے درمیان ایک اہم سفارتی مذاکراتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مذاکرات میں سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، جنہوں نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔
اس اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں کئی کلیدی امور پر اتفاق ہوا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کے تین اہم مقاصد بیان کیے: واشنگٹن اور ماسکو میں سفارتی عملے کی بحالی، یوکرین امن مذاکرات کی حمایت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام، اور اقتصادی تعاون کے امکانات کا جائزہ۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے ایک معاہدہ طے کیا ہے جس میں قومی مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی میزبانی کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک نے سفارتی تبادلوں کی بحالی پر اتفاق کیا، جس سے سفارتی مشنز کو درپیش رکاوٹیں ختم ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ رواں ماہ صدر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے مزید تیاری درکار ہوگی۔
انہوں نے ریاض مذاکرات کو یوکرین جنگ کے حل کی جانب ایک بہت، بہت اہم قدم قرار دیا۔
ادھر امریکی حکام نے بھی سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مملکت کے کردار کو غیرمعمولی اور انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پہلا قدم ثابت ہوں گے۔
ریاض میں ہونے والی اس سفارتی نشست کے اختتام پر روس اور امریکہ نے مسلسل مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی وفد، جس کی قیادت وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور وزیر مملکت مساعد بن محمد العیبان نے کی، اس اہم بات چیت کے انعقاد میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا۔
اب دنیا کی نظریں مذاکرات کے اگلے مرحلے اور ممکنہ طور پر روسی اور امریکی صدور کے درمیان متوقع ملاقات پر مرکوز ہیں۔