خیبر پختونخوا سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سعودی عرب کے لیپ 2025 سمٹ کے دوران دو معروف آئی ٹی کمپنیوں، فیوژن اے آئی اور ویژنری لمیٹڈ کمپنی، کے ساتھ اہم معاہدے کیے ہیں۔
ان معاہدوں کا مقصد خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیوپس اور گیمنگ ٹیکنالوجی میں مہارت فراہم کرنا ہے۔
فیوژن اے آئی کے تعاون سے 1500 آئی ٹی گریجویٹس کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت دی جائے گی، جبکہ مزید 800 نوجوانوں کو ڈیوپس میں مہارت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
دوسری جانب، گیمنگ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ویژنری لمیٹڈ کمپنی کے ساتھ ایک اور معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت 1200 نوجوانوں کو فری لانسنگ سمیت مختلف مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈاکٹر شفقت ایاز، کے مطابق سعودی عرب میں آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے بعد صوبے میں نوجوانوں کی تربیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سیکٹر میں ترقی کے لیے ماہر پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے، اور اسی لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میں مہارت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں تین سے چار ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی، تاہم اس معاہدے کا طویل المدتی ہدف ایک لاکھ گریجویٹس کو جدید مہارتیں فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ نہ صرف سیکھ سکیں بلکہ خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، کی آئی ٹی مارکیٹ میں ملازمت کے مواقع بھی حاصل کر سکیں۔
ڈاکٹر شفقت ایاز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب لا رہا ہے، اور خیبر پختونخوا حکومت بھی اس میدان میں آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کے مطابق صوبے کے کئی نوجوان گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ ہیں، مگر بین الاقوامی سطح پر مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
اگر انہیں درست تربیت فراہم کی جائے تو پاکستان گیمنگ انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کا چار روزہ دورہ انتہائی کامیاب رہا، جہاں مختلف آئی ٹی فرمز سے ملاقاتیں ہوئیں اور مزید معاہدوں کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مستقبل قریب میں خیبر پختونخوا حکومت مزید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے اور عالمی مارکیٹ میں ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے جا سکیں۔