آج سعودی عرب میں یوم تاسیس منایا جائے گا، جو 1727 عیسوی (1139 ہجری) میں امام محمد بن سعود کی درعیہ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کی یاد دلاتا ہے۔
یہ قومی دن مملکت کی گہری تاریخی جڑوں کو اجاگر کرتا ہے اور تین صدیوں پر محیط اس کے شاندار سفر کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
سعودی ریاست کے قیام سے ہی اسلامی اصولوں کو اس کی بنیاد بنایا گیا، جہاں قرآن و سنت اس کا آئین رہے۔
سعودی عوام اور قیادت کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہمیشہ قائم رہا ہے، جو ہر دور میں استحکام کا باعث بنا۔
مملکت نے ابتدا سے ہی ترقی، استحکام، اور سماجی تحفظ کو ترجیح دی، جس کی بدولت اس نے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے مضبوطی سے ترقی کی راہ جاری رکھی۔
سعودی عرب کی تاریخی وراثت کی بنیاد امام محمد بن سعود نے رکھی، جنہوں نے عرب خطے کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
بعدازاں، امام ترکی بن عبداللہ نے دوسری سعودی ریاست قائم کی اور اس کے بعد شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے سعودی عرب کو یکجا کر کے ایک متحد مملکت کی بنیاد رکھی۔
ان عظیم رہنماؤں کی قیادت میں سعودی عرب علاقائی اور عالمی طاقت کے طور پر ابھرا، جس کا تسلسل آج بھی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر قیادت جاری ہے۔
مملکت ویژن 2030 کے تحت معاشی اور سماجی اصلاحات کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہے۔
یومِ تاسیس مملکت کی ان اہم تاریخی کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو سیاسی، سماجی، اور اقتصادی ترقی، قومی یکجہتی اور حرمین شریفین کے تحفظ پر مبنی ہیں۔
تاریخ کے مختلف مراحل میں، سعودی عرب نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا، مگر قومی اتحاد اور حکمتِ عملی کی بدولت ہمیشہ کامیابی حاصل کی۔
اس موقع پر ملک بھر میں ثقافتی اور فنی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جو سعودی عرب کے شاندار ماضی اور حب الوطنی کو اجاگر کریں گی۔
ان تقریبات میں ایسی نمائشیں اور پروگرام شامل ہوں گے جو پہلی سعودی ریاست، دوسری سعودی ریاست اور پھر موجودہ جدید سعودی مملکت کے ارتقا کو نمایاں کریں گے۔
سعودی عرب آج بھی قومی یکجہتی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جہاں جدیدیت اور تاریخی ورثے کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔