سعودی عرب کے شہر تبوک کے اسکان محلے میں حال ہی میں کھولی جانے والی الجواہرہ بنت عبدالعزیز الداود مسجد کو جدید اور ماحول دوست مسجد کا بہترین نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور مربوط سہولیات سے آراستہ ہے، جو اسے مقامی کمیونٹی کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بناتی ہے۔
متحدہ مساجد کمپنی کے ڈائریکٹر عبدالعزیز الفریج کے مطابق، یہ مملکت کی بڑی سمارٹ مساجد میں سے ایک ہے، جس میں پانی اور بجلی کے استعمال کی فوری نگرانی اور خودکار کنٹرول کا نظام موجود ہے۔
اس جدید نظام کے ذریعے توانائی کی بچت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور مسجد میں وسائل کے بہترین استعمال کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
یہ مسجد علاقے کے تمام افراد، بشمول بچوں، خواتین، مردوں اور معذور افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کی گئی ہے۔
خصوصی سمارٹ ٹیکنالوجیز کے تحت، مسجد کی ساخت زمین سے صرف 20 سینٹی میٹر اونچی رکھی گئی ہے تاکہ بزرگ اور معذور افراد کو بغیر کسی مدد کے آسانی سے داخل ہونے کی سہولت حاصل ہو۔
مزید برآں، اذان کے وقت مسجد کے مینار کی روشنی میں تبدیلی آتی ہے تاکہ سننے اور بولنے سے قاصر افراد اذان کے وقت سے آگاہ ہو سکیں۔
الفریج نے بتایا کہ اس طرز کی مزید مساجد کی تعمیر کے لیے وزارت اسلامی امور، دعوت اور رہنمائی کے تعاون سے مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔
ان مساجد میں روایتی اور جدید اسلامی طرز تعمیر کا امتزاج پایا جاتا ہے، جو انہیں عبادت گزاروں میں بے حد مقبول بنا رہا ہے۔
مستقبل میں، اس ماڈل کو سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں فروغ دینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جدید اور ماحول دوست سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔