سعودی عرب نے بیرون ملک موجود ان افراد کو واپس آنے کی دعوت دی ہے، جو بیرونی قوتوں کے ہاتھوں گمراہ ہو کر مملکت کے خلاف استعمال ہوئے، بشرطیکہ وہ کسی سنگین جرم میں ملوث نہ ہوں۔
صدر برائے ریاستی سیکیورٹی عبدالعزیز الحویرینی کے مطابق، حکومت کا بنیادی مقصد سزا دینا نہیں بلکہ بحالی اور اصلاح کرنا ہے، اور ان افراد کی واپسی کو کسی صورت عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران، الحویرینی نے ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو افراد گمراہی کا شکار ہوئے اور دوسروں کے مفادات کے لیے استعمال کیے گئے، ان کے لیے وطن واپسی کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی مخالفت صرف نظریاتی سطح تک محدود رہی ہو اور وہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہ رہے ہوں، تو انہیں بغیر کسی قانونی کارروائی کے واپس آنے کی اجازت دی جائے گی۔
ان افراد کے لیے وطن واپسی کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے، الحویرینی نے کہا کہ وہ مخصوص ہیلپ لائن (990) پر رابطہ کر کے اپنی شناخت اور موجودہ مقام سے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں تاکہ ان کی مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ، وہ اپنے کسی قریبی خاندانی فرد کے ذریعے بھی متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں موجود سعودی سفارتخانے ان افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایم بی سی کے پروگرام حکایت وعد میں گفتگو کرتے ہوئے، الحویرینی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ریاست ان افراد کے نام ظاہر نہیں کرے گی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا مقصد سزا کی بجائے اصلاح ہے۔
انہوں نے سعودی معاشرے کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملک میں حراست میں لیے گئے تقریباً 20 فیصد افراد یا تو ان کے خاندانوں کی درخواست پر یا ان کے ساتھ مشترکہ کوششوں کے ذریعے گرفتار کیے گئے۔
انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ سعودی خاندان اب زیادہ باشعور ہو رہے ہیں اور حکومت کی ان کوششوں کو تسلیم کر رہے ہیں، جو وہ اپنے شہریوں کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچانے کے لیے کر رہی ہے۔
یہ پروگرام سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر مرکوز تھا، جس میں اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے ملک میں انتہا پسندی کے خلاف حالیہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی۔