وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کے اس اقدام کو نہ صرف قابل مذمت قرار دیا بلکہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت اور مخالفت بھی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی امداد کو بطور سیاسی دباؤ اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک سنگین اور غیر انسانی عمل ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی انسانی قوانین کی صریح پامالی بھی ہے، خاص طور پر اس وقت جب فلسطینی عوام ایک بدترین انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کے ان سنگین اقدامات کو روکے اور فلسطینی عوام کو درپیش انسانی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔
سعودی حکومت نے عالمی سطح پر احتسابی نظام کو متحرک کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا مؤثر طریقے سے سدباب کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ غزہ کی پٹی میں مسلسل اور بلاتعطل امداد پہنچ سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی عوام کو شدید خوراک، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل امدادی قافلوں کو روکنے اور غزہ کے شہریوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جاری ان غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔