مکہ مکرمہ میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے 163ویں وزارتی اجلاس کا انعقاد ہوا، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے اور عالمی امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں کئی اہم معاملات زیر بحث آئے، جن میں فلسطین، غزہ کی موجودہ صورتحال، مشرق وسطیٰ میں امن، خلیجی ممالک کی اقتصادی حکمت عملی اور عالمی تنازعات شامل تھے۔
اجلاس میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا اور خاص طور پر غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے غزہ کے شہریوں کو جبری بےدخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزراء نے زور دیا کہ غزہ میں عام شہریوں پر حملے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور عالمی برادری کو فوری طور پر ان مظالم کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ غزہ کے لوگوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے لیے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔
وزراء نے کہا کہ فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین پر رہنے کا حق تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے، اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بےدخل کرے۔
اجلاس میں قاہرہ عرب سربراہی اجلاس کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا جس کے تحت غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری اور تمام دوست ممالک پر زور دیا کہ وہ اس ڈونرز کانفرنس میں بھرپور اور فعال شرکت کریں اور فلسطینی حکومت اور متعلقہ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر تعمیر نو کے منصوبے کو عملی شکل دیں۔
شرکاء نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو روکنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی اور اسے عالمی انسانی قوانین اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کرے، عالمی احتسابی نظام کو فعال کرے اور امداد کی ترسیل کو یقینی بنائے۔
قطر، مصر اور امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا، اور امید ظاہر کی گئی کہ یہ کوششیں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اجلاس میں اسرائیل کو مکمل طور پر ان مظالم اور حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو غزہ میں عام شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی شہادت کا سبب بنے، اور انہیں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا۔
وزراء نے فلسطینی منصوبے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا جو قاہرہ میں منعقد ہونے والے غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ کا مستقبل ایک متحد فلسطینی ریاست کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔
اجلاس میں عرب سربراہی اجلاس کے اس مطالبے کو بھی اہمیت دی گئی جس کے تحت غزہ کے یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سرحدی راستے کھولنے پر بھی زور دیا گیا، اور اس بات کی وکالت کی گئی کہ کسی بھی نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کو رسائی دی جائے۔
اجلاس میں بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور فلسطینی عوام کے تمام جائز حقوق کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں کو دگنا کرنے پر زور دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے عالمی اتحاد کی ان کوششوں کی بھی حمایت کی جو دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں سعودی عرب، ناروے اور یورپی یونین کے اشتراک سے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح ٹائم فریم مقرر کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا اور تمام ممالک کو اس اقدام میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا گیا جس کے تحت آئندہ جون میں نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنا اور دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہوگا۔
اجلاس میں اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کی بھی مذمت کی گئی جس کے تحت اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی (UNRWA) کے کام کو روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔
وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے، اسرائیلی حکومت کو اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے اور یقینی بنائے کہ یہ ایجنسی اپنے خدمات جاری رکھ سکے۔
اجلاس میں جی سی سی وزرائے خارجہ اور اردن، مصر، مراکش اور شام کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں کے نتائج کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔
جی سی سی اور اردن کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو سراہتے ہوئے اس مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا جو پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔
مصر کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر اس معاہدے کے تحت جو 24 فروری 2022 کو طے پایا تھا۔
اجلاس میں 2024 سے 2028 کے دوران مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
مراکش کے ساتھ خلیجی ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اسٹریٹجک تعاون کے فریم ورک کے تحت طے شدہ منصوبوں پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے۔
اجلاس میں شامی عوام کے لیے ہر ممکن امداد اور تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اور کہا گیا کہ شام اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جس میں خلیجی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خلیجی ممالک کی معیشت کو مزید مستحکم بنانے اور عالمی تجارتی اور اقتصادی بلاکس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر بھی بات چیت کی گئی۔
وزراء نے کہا کہ ان تعلقات کو مضبوط بنانے سے خلیجی ممالک کے تجارتی اور سرمایہ کاری مفادات کو فائدہ ہوگا اور ان کی عالمی و علاقائی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔
روس اور یوکرین کے بحران پر بات کرتے ہوئے وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ جی سی سی کا مؤقف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر مبنی ہے، جس میں ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی خودمختاری کے احترام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے یوکرین کے مسئلے پر سفارتی کوششوں کو بھی سراہا گیا، خاص طور پر 18 فروری کو ریاض میں ہونے والے مذاکرات، جن میں روس اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی گئی تھی۔
اجلاس میں امید ظاہر کی گئی کہ یہ مذاکرات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ میں معاون ہوں گے۔
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قاہرہ سربراہی اجلاس کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
جس میں فلسطینی ریاست اور اقوام متحدہ کے تعاون سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔