یمنی حوثیوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین’ اور اس کے ہمراہ جنگی جہازوں پر 18 بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ۔
حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے اس حملے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء اور سعودی عرب سے متصل صوبہ صعدہ، پر کیے گئے 47 سے زائد امریکی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔
ساری نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج امریکی جنگی جہازوں کو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گی، اگر وہ ہمارے ملک کے خلاف جارحیت جاری رکھتے ہیں۔
امریکی حکام نے حوثیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ‘یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین’ پر کسی حملے کی اطلاع نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم حوثیوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ بحری جہازوں کی آمدورفت کو کنٹرول کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک حوثیوں کی یہ صلاحیت ختم نہیں ہو جاتی۔
حوثیوں نے اس سے قبل بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنایا ہے، جس میں دو بحری جہاز ڈوب چکے ہیں، اور انہوں نے یہ کارروائیاں غزہ میں حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کی تھیں۔
اقوام متحدہ نے امریکہ اور حوثیوں سے حملے بند کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ یمن میں فوجی مہم جوئی سے حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں اور خطہ جنگ کی آگ میں جھونکا جا سکتا ہے۔
امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے درجنوں کی حالت نازک ہے۔
ایران نے حوثیوں کے حملوں میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادی گروپوں کی قومی یا عملی پالیسیوں میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔