ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان مہم جو، بوراک اوزترک، جو اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں، نے ایک نہایت طویل اور پرعزم سائیکلنگ سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
ان کا یہ منفرد سفر تقریباً چھ ہزار کلومیٹر پر محیط ہوگا، جس کا اختتام مقدس سرزمین سعودی عرب میں ہوگا، جہاں وہ حج کے بابرکت ایام سے قبل پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ وہ فریضہ حج ادا کر سکیں۔
بوراک اوزترک نے اس غیر معمولی سفر کی منصوبہ بندی گزشتہ دو برس سے کر رکھی تھی، مگر نجی مسائل اور ذاتی معاملات کے باعث انہیں بارہا اس مہم کو ملتوی کرنا پڑا۔
تاہم، اس مرتبہ انہوں نے مکمل تیاری کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا ہے۔
انہوں نے نہ صرف تمام قانونی امور کو طے کر لیا ہے بلکہ ان تمام ممالک سے گزرنے کی اجازت بھی حاصل کر لی ہے جو ان کے راستے میں آئیں گے۔
اس طرح وہ اس بات کو یقینی بنا چکے ہیں کہ انہیں دورانِ سفر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ان کے طے شدہ راستے کے مطابق، وہ سب سے پہلے آسٹریا پہنچیں گے، اس کے بعد وہ سلووینیا، کروشیا، سربیا، کوسوو، شمالی مقدونیہ، یونان، ترکیہ، شام اور اردن سے ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوں گے۔
وہ اپنی حتمی آمد کی تاریخ کے بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں کر رہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ حج کے مقدس ایام سے قبل مکہ مکرمہ پہنچ جائیں۔
بوراک اوزترک اپنی اس حیرت انگیز مہم کے دوران سوشل میڈیا پر اپنے تجربات اور سفر کی روداد بھی شیئر کر رہے ہیں، جس نے کئی لوگوں کو متاثر کیا ہے۔
وہ نہ صرف جسمانی طور پر ایک عظیم سفر کر رہے ہیں بلکہ روحانی طور پر بھی ایک غیر معمولی سفر کا آغاز کر چکے ہیں، جہاں ہر گزرتا ہوا دن اور ہر طے ہونے والا کلومیٹر انہیں ان کے مقدس مقصد کے مزید قریب لے جا رہا ہے۔