سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی آرکیٹیکچر کریکٹرز میپ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے، جس میں انیس منفرد طرزِ تعمیر شامل کیے گئے ہیں۔
یہ انداز سعودی عرب کے تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں اور ویژن 2030 کے تحت شہری ترقی کے جدید منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگ کیے جا رہے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد مملکت کے تاریخی طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید شہری ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ولی عہد، جو کہ سپریم کمیٹی برائے سعودی آرکیٹیکچرل ڈیزائن گائیڈ لائنز کے سربراہ بھی ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی آرکیٹیکچر نہ صرف تعمیراتی منظرنامے کو بہتر بنائے گا بلکہ ماحولیاتی پائیداری کو بھی یقینی بنائے گا۔
جدید طرزِ تعمیر میں روایتی عناصر کو شامل کر کے ایک ایسا منفرد معمارانہ فریم ورک تشکیل دیا جا رہا ہے جو ماضی اور حال کے درمیان توازن پیدا کرے گا اور عالمی سطح پر تعمیراتی تخلیقیت کے لیے ایک نئی مثال بنے گا۔
یہ منصوبہ صرف ثقافتی اور جمالیاتی لحاظ سے ہی اہم نہیں بلکہ معاشی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔
سعودی شہروں کو زیادہ دلکش اور پرکشش بنانے سے نہ صرف مقامی افراد بلکہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی سہولتیں فراہم ہوں گی، جس سے سیاحت، ہاسپٹیلٹی، اور تعمیرات کے شعبے کو فروغ ملے گا۔
تخمینے کے مطابق، 2030 تک سعودی آرکیٹیکچر کا منصوبہ مملکت کی جی ڈی پی میں 8 ارب ریال کا اضافہ کرے گا اور 34,000 سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا۔
اس منفرد تعمیراتی وژن کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ الاحسا، طائف، مکہ مکرمہ، اور ابہا میں شروع ہوگا۔
ابتدائی طور پر اس منصوبے کا اطلاق حکومتی عمارتوں، بڑے تعمیراتی منصوبوں اور تجارتی مراکز پر کیا جائے گا۔
سعودی آرکیٹیکچر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ لچکدار رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جس میں جدید تعمیراتی تکنیکوں کا استعمال ممکن بنایا گیا ہے، بغیر کسی اضافی مالی بوجھ کے۔
ہر ایک انیس طرزِ تعمیر کو تین بنیادی زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے: روایتی، عبوری، اور جدید، تاکہ مقامی فنِ تعمیر کے اصلی خدوخال کو محفوظ رکھتے ہوئے تخلیقی تعمیراتی اظہار کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
سعودی آرکیٹیکچر کریکٹرز میپ مملکت کے تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کے مطابق انیس تعمیراتی طرزوں کو ترتیب دیتا ہے، جن میں
سنٹرل نجدی، نادرن نجدی، تبوک کوسٹ، مدینہ رورل، اِنر مدینہ، حجازی کوسٹ، طائف ہائی لینڈز، سروات ماؤنٹینز، عسیر ایسکارپمنٹ، تہامہ فُٹ ہلز، تہامہ کوسٹ، فرسان آئی لینڈز، ابہا ہائی لینڈز، بیشہ ڈیزرٹ، نجران، الاحسا اویسس، القطیف اویسس، ایسٹ کوسٹ اور ایسٹرن نجدی شامل ہیں۔
اس منفرد تعمیراتی منصوبے کی کامیاب عمل درآمد کے لیے سرکاری اداروں، انجینئرنگ کمپنیوں، اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ماہر آرکیٹیکچرل اسٹوڈیوز انجینئرز اور ڈیزائنرز کے لیے ٹیکنیکل گائیڈ لائنز، تربیتی ورکشاپس اور مہارتوں کی ترقی کے پروگرام فراہم کریں گے، تاکہ پائیدار اور معیاری تعمیرات کو یقینی بنایا جا سکے۔