سعودی عرب نے دنیا کی سب سے تیز رفتار اور جدید ترین سفری ٹیکنالوجی، ہائپر لوپ ون، حاصل کرنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق 2030 تک سعودی عرب دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا، جہاں ہائپر لوپ ٹیکنالوجی سے مزین کیپسول نما ٹرینوں کا آغاز ہوگا۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کی وژن 2030 کے تحت ترقی کی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
امریکی کمپنی کے مطابق ہائپر لوپ ٹیکنالوجی کے ذریعے ریاض سے جدہ تک کا سفر صرف 46 منٹ میں طے ہو سکے گا۔ یہ 1,078 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلنے والی کیپسول نما ٹرینوں کی بدولت ممکن ہوگا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو گا۔
اس ٹیکنالوجی کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مکہ مکرمہ سے جدہ کا فاصلہ محض پانچ منٹ کی مسافت پر رہ جائے گا، جو سعودی عرب میں مذہبی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو گا۔
امریکی کمپنی نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے نہ صرف تیز رفتار سفر کا وعدہ کیا ہے بلکہ مسافروں کی حفاظت اور آرام دہ سفر کو بھی ترجیح دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف رفتار میں انقلابی تبدیلی لائے گی بلکہ سعودی عرب کی معیشت اور سیاحت کے شعبے میں بھی نئی جان ڈالے گی۔
سعودی عرب کی حکومت اس منصوبے کے ذریعے دنیا کو ایک نیا سفر کرنے کا تجربہ فراہم کرے گی، جس سےاس کے عالمی مقام میں مزید اضافہ ہوگا۔