واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ایک منفرد اور طویل احتجاجی خطاب جاری ہے، جہاں ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ غیر آئینی پالیسیوں کے خلاف مسلسل20 گھنٹے سے بولنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کوری بُکر نے پیر کی رات اپنی تقریر کا آغاز کیا اور اب تک بنا کسی وقفے کے مسلسل بول رہے ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق، اگر وہ خاموش ہوتے ہیں تو ان کی تقریر کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، اس لیے انہیں ہر لمحہ بولتے رہنا ضروری ہے۔
اپنے خطاب میں بُکر نے ٹرمپ کی سخت کفایت شعاری پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے تحت مشیر اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کانگریس کی منظوری کے بغیر کئی حکومتی پروگرام ختم کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کے لیے ایک غیر معمولی لمحہ ہے، اور ہمیں اسے معمول نہیں سمجھنا چاہیے۔
اگرچہ بُکر کی تقریر ریپبلکن اکثریتی سینیٹ کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتی، لیکن ان کا یہ اقدام امریکی ڈیموکریٹس کے لیے ایک مزاحمتی علامت بن چکا ہے۔ اس سے قبل، امریکی سینیٹ میں سب سے طویل خطاب 1957 میں سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ نے 24 گھنٹے 18 منٹ تک کیا تھا، جبکہ 2013 میں سینیٹر ٹیڈ کروز نے 21 گھنٹے اوباما کیئر کے خلاف تقریر کی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق، سینیٹر کوری بُکر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس وقت تک خطاب جاری رکھیں گے جب تک ان کے لیے جسمانی طور پر ممکن ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ سینیٹ کی تاریخ میں سب سے طویل خطاب کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ یا یہ احتجاجی تقریر امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دے گی؟