امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے تمام غیر ملکی درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس سے عالمی تجارتی نظام میں ہلچل مچ گئی ہے۔ خاص طور پر پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد، چین پر 34 فیصد، یورپی یونین پر 20 فیصد اور بھارت پر 26 فیصد اضافی ٹیرفز نے بین الاقوامی تجارت کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ اقدام "امریکا فرسٹ” پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دہائیوں سے جاری غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے خاص طور پر یورپی اور جاپانی آٹو انڈسٹری کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے نے نہ صرف ایشیائی ممالک جیسے ویت نام 46 فیصد، کمبوڈیا فیصد اور سری لنکا 44 فیصد کو متاثر کیا ہے،بلکہ امریکا کے روایتی اتحادیوں مثلاً آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی یونین کو بھی چیلنج درپیش ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جسے وہ تجارتی جنگ کے اعلان کے مترادف سمجھ رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق، اگر متاثرہ ممالک جوابی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور صارفین کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام امریکی معیشت کو مضبوط بنائے گا، جبکہ تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ عالمی معاشی استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دنیا بھر کے ممالک کے ردعمل سے واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ ایک نئی تجارتی جنگ کا آغاز ہے یا محض امریکا کی تجارتی پالیسی میں ایک عارضی تبدیلی ہے اورآنیوالے دنوں میں اس سے متاثرہ ممالک کے ساتھ امریکی تجارت میں کمی کا امکان ظاہرکیا جارہاہے۔