پاکستان کے وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب، نے حالیہ پریس کانفرنس میں ملکی معیشت کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے کہ اس کے اثرات عوام تک پہنچیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے معیشت کی بنیاد مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ، ترسیلات زر کا ریکارڈ 36 ارب ڈالر تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی ہے اور حکومت اس بات پر خوش ہے کہ برآمدات بھی 13 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ضروری اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا مقصد ہے کہ عوام کو اشیاء کی کمی یا قیمتوں میں بے جا اضافے کا سامنا نہ ہو۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس ضمن میں ادارہ جاتی سطح پر ایک نظام قائم کیا جا رہا ہے تاکہ ضروری اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کی جا سکے اور مہنگائی کے اثرات کم سے کم کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق 51 ایسی ضروری اشیاء کی فہرست تیار کی گئی ہے جن میں سے 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے اور 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، کیونکہ جب مقامی سرمایہ کاری بڑھے گی تو اس سے بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔
وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس وقت سروے رپورٹس مثبت ہیں اور ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر عیدالفطر کے دوران لوگوں نے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی کا عکاس ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے تمام اہداف کامیابی سے پورے کیے ہیں، جس کی وجہ سے اسٹاف لیول معاہدہ ممکن ہو سکا۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے ہیں، اور حکومت کی کوشش ہے کہ شرح سود کو مزید کم کیا جائے تاکہ کاروباروں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور معیشت میں مزید بہتری آئے۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومت نے کئی ادارہ جاتی اصلاحات کی ہیں، جن میں کچھ اقدامات پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کیے گئے ہیں۔
ایک مثال دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبوں میں زرعی شعبے پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ بھی اس نوعیت کا تھا جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔
آخر میں محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سیمنٹ اور آٹو موبائل کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے اور اس سال معاشی ترقی کی شرح تین فیصد رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال نئے ٹیکس فائلرز سے 105 ارب روپے حاصل کیے گئے ہیں، جو معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔