پیوٹن نے کہا کہ 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو 10 سے 15 سال تک مؤخر کرنے کی پیشکش کی تھی کیونکہ اس وقت یوکرین اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ چاہے یہ فیصلہ آج ہو، کل ہو یا 10 سال بعد، روس کے لیے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یوکرین آخرکار نیٹو میں شامل ہو جائے گا، چاہے دیر سے ہی سہی۔
سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے کہا تھا کہ اگر بات چیت ہوتی ہے تو سلوواکیہ اپنے ملک کو اس کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ پیوٹن نے اس پیشکش کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ روس اس کے خلاف نہیں ہے، اور سلوواکیہ کی "غیر جانبدار پوزیشن” کو سراہا۔ فیکو نے 22 دسمبر کو ماسکو میں پوٹن سے ملاقات کی تھی، جو مغرب کے روس کو تنہا کرنے کے کوششوں کے باوجود ہوئی۔
سلوواکیہ اور یوکرین کے درمیان توانائی کے مسائل بھی کشیدگی کا باعث بنے ہیں۔ سلوواکیہ کے وزیر اعظم فیکو نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سلوواکیہ کی قدرتی گیس کی فراہمی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کا یہ فیصلہ یورپ کو سزا دینے کے مترادف ہے، اور اگر یورپ کو گیس کی ضرورت ہو تو روس اسے فراہم کر سکتا ہے، خاص طور پر یامال یورپ پائپ لائن کے ذریعے۔
امن بات چیت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرائیں گے، جس سے یوکرین اور یورپ میں یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ یوکرین کو روس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ پیوٹن نے اس بات کو دہرایا کہ روس کا مقصد یوکرین میں پورا ہوگا اور اسے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
پیوٹن نے کہا کہ روس کے فوجی آپریشن کا مقصد یوکرین میں اپنے تمام مقاصد کو حاصل کرنا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی فوجی کارروائی کو "ہمارا سب سے بڑا مقصد” قرار دیا اور کہا کہ روس اس جنگ میں اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔