یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کل واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تاکہ یوکرین کے قدرتی وسائل سے متعلق ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یہ معاہدہ، جسے زیلنسکی کی حکومت نے بدھ کے روز باضابطہ منظوری دی، یوکرین کی معاشی بحالی اور سیکیورٹی استحکام کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
جہاں ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کے لیے ایک بڑی اقتصادی کامیابی قرار دیا ہے، وہیں زیلنسکی نے اسے ایک ابتدائی فریم ورک کے طور پر بیان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یوکرین کو مزید معاہدوں کی ضرورت ہے، جن میں سیکیورٹی ضمانتیں بھی شامل ہوں تاکہ روسی جارحیت کو روکا جا سکے۔
تاہم، ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ یوکرین کو زیادہ تحفظ فراہم نہیں کرے گا، بلکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ذمہ داری یورپی ممالک پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائیں۔
اس ملاقات کا سب سے متنازع پہلو یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کا معاملہ ہے، جو کہ زیلنسکی کا دیرینہ خواب ہے۔
ٹرمپ نے یوکرین کی نیٹو رکنیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیف کو اس خیال کو بھول جانا چاہیے۔
انہوں نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی توسیع یوکرین جنگ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک تھی۔
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکی کمپنیاں یوکرین میں قیمتی معدنی وسائل نکالنے کا کام شروع کرتی ہیں، تو یہ یوکرین کے لیے خودکار سیکیورٹی کا ذریعہ بن جائے گا۔
ان سفارتی بات چیت کے دوران، ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے امکانات کا بھی اشارہ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک امن معاہدہ زیادہ دور نہیں۔
تاہم، زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک یوکرین کو مکمل سیکیورٹی ضمانتیں حاصل نہیں ہوتیں، تب تک کوئی بھی جنگ بندی موثر ثابت نہیں ہوگی۔
ان کا اصرار ہے کہ یوکرین کو یا تو نیٹو کا متبادل راستہ تلاش کرنا ہوگا یا کسی اور طرح کا تحفظاتی معاہدہ کرنا ہوگا۔
دوسری جانب، یورپی رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انہیں واشنگٹن مذاکرات سے باہر رکھا گیا۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالاس نے واضح کیا کہ یوکرین کے حوالے سے کوئی بھی امن معاہدہ تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب اس میں یورپ کو شامل کیا جائے۔
اگرچہ معدنی وسائل سے متعلق معاہدہ یوکرین اور امریکہ کے درمیان ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی بھی بڑے امن معاہدے میں یورپی شمولیت ناگزیر ہوگی۔
یوکرین کے قدرتی وسائل سے متعلق معاہدہ کئی ماہ سے زیر بحث رہا ہے۔
ابتدائی طور پر، امریکہ نے یوکرین کے معدنی وسائل میں $500 ارب کے حصے کا مطالبہ کیا تھا، جسے زیلنسکی نے مسترد کر دیا تھا۔
تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، یہ شرط ختم کر دی گئی ہے، اور اس کی جگہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس معاہدے پر عملدرآمد کے کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ یوکرین کے 350 ارب ڈالر مالیت کے معدنی وسائل اس وقت روسی قبضے میں ہیں۔
مزید یہ کہ یوکرین کو بارودی سرنگوں کے مسئلے کا بھی سامنا ہے، کیونکہ ملک کے 25 فیصد رقبے پر بارودی سرنگیں موجود ہیں، خاص طور پر مشرقی جنگ زدہ علاقوں میں۔
ادھر، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکہ کو نایاب معدنی وسائل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جن میں روسی مقبوضہ یوکرین کے وسائل بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ اور پیوٹن نے حال ہی میں سعودی عرب میں دو طرفہ مذاکرات کیے، جن میں یوکرین کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس پر زیلنسکی نے ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیوٹن کو عالمی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر بھی اس ہفتے ٹرمپ اور زیلنسکی سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے تاکہ یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔