واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، صدر ٹرمپ نے زیلنسکی پر لاکھوں جانوں کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ کی نہیں بلکہ یورپ کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کے اقدامات تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ ملاقات تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی، تاہم آخری دس منٹ میں خاصی تلخی دیکھنے میں آئی، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ وہ یوکرین میں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی بات کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ نے مدد نہ کی ہوتی تو روس اب تک یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔
دوسری جانب، یوکرینی صدر زیلنسکی نے امریکہ سے امداد جاری رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
تاہم، دونوں صدور کے درمیان اس وقت تنازع بڑھ گیا جب ٹرمپ نے زیلنسکی پر روس کے ساتھ امن معاہدہ نہ کرنے کا الزام لگایا۔
اس پر زیلنسکی نے جواب دیا کہ معاہدہ تو ہو چکا تھا، مگر روس نے اس پر عمل نہیں کیا۔
ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ بندی بہت قریب ہے اور امریکہ و یوکرین کے درمیان معدنیات تک رسائی کا معاہدہ منصفانہ ہے۔
مگر اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ زیلنسکی نہ صرف مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے بلکہ معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔
بعد ازاں، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ یوکرین کے ساتھ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹھروتھ پر کہا کہ زیلنسکی نے اوول آفس کی عزت نہیں کی اور امریکہ کی بے توقیری کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب زیلنسکی امن مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے، تبھی ان سے دوبارہ ملاقات ممکن ہوگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو مفید تو قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کا تاثر یہی ہے کہ زیلنسکی فی الحال روس کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امریکی میڈیا نے اس ملاقات کو روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات پر سوالیہ نشان قرار دیا۔