امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تلخ ملاقات نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
اس کشیدگی کا سب سے زیادہ فائدہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو پہنچا، جو اپنے دو حریفوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات سے یقینی طور پر خوش ہوں گے۔
اس کا اظہار روسی حکام کے بیانات میں بھی نظر آیا، جہاں انہوں نے اس واقعے کو خاصی دلچسپی سے سراہا۔
روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کرل دمتریف، جو سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ روس-امریکہ مذاکرات میں روسی وفد کا حصہ تھے، نے سوشل میڈیا پر اس تنازعے کو تاریخی قرار دیا۔
دوسری جانب، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
ادھر، یورپی ممالک نے فوری طور پر زیلنسکی کی حمایت میں آواز بلند کی۔
یوکرینی صدر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یورپی حکام کی جانب سے ملنے والے اظہارِ یکجہتی کے پیغامات کی بھرمار نظر آئی۔
یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس صورت حال کو ویک اپ کال قرار دیا۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ کو اب امریکہ پر مکمل انحصار چھوڑ کر خودمختاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔
رپورٹ میں ایک دلچسپ تشبیہ دی گئی کہ ایسا لگتا ہے جیسے بحرِ اوقیانوس کے پار ہمارے سرپرستوں نے ہمیں اپنے خاندانی گھر سے نکال کر خود اپنے قدموں پر کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان تمام سفارتی اور سیاسی ردعمل کے باوجود، ایک حقیقت واضح ہے کہ یہ تنازعہ دونوں رہنماؤں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ، جو ہمیشہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ روس-یوکرین جنگ چند دنوں میں ختم کر سکتے ہیں، اب ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کی یہ امید کہ امریکہ کی 250 ارب ڈالر کی رقم یوکرین سے واپس لائی جا سکے گی، اس وقت شدید دھچکے کا شکار ہوئی جب معدنیات کے معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔
دوسری طرف، زیلنسکی کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر امریکہ کی حمایت ختم ہو گئی تو یوکرین کے لیے جنگ کا دباؤ برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
اس ساری صورت حال میں سفارتی کوششوں کو ازسرِ نو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔
دونوں جانب کے سفارتی ماہرین کے درمیان نئی بات چیت متوقع ہے تاکہ اس تلخی کو کم کیا جا سکے اور وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی عملی حل نکالا جا سکے۔