امریکی کمپنی فائرفلائی ایروسپیس کے خلائی جہاز بلیو گھوسٹ مشن 1 نے چاند پر کامیاب لینڈنگ کر کے تاریخ رقم کر دی۔
یہ چاند پر اترنے والا دوسرا نجی مشن ہے، مگر اپنی درست لینڈنگ کے باعث یہ اپنی نوعیت کا پہلا کامیاب مشن قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ خلائی جہاز امریکی وقت کے مطابق رات 3 بج کر 34 منٹ پر چاند کے شمال مشرق میں میئر کریسیئم نامی آتش فشانی علاقے کے قریب مونس لیٹریل پر اترا۔
لینڈنگ کے فوراً بعد، ٹیکساس کے شہر آسٹن میں موجود مشن کنٹرول سینٹر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
فائرفلائی ایروسپیس کے سی ای او جیسن کم نے تصدیق کی کہ لینڈر سطح پر سیدھا اور مستحکم موجود تھا۔
اس کامیاب لینڈنگ کے برعکس، فروری میں چاند پر اترنے والا پہلا نجی مشن گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس سے 1972 کے بعد چاند پر پہنچنے والے پہلے امریکی مشن کی کامیابی کچھ حد تک متاثر ہوئی تھی۔
تاہم، اس بار ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہم چاند پر ہیں۔
مشن کی پروگرام مینیجر رے ایلنس ورتھ نے بتایا کہ لینڈر ہدف کے 100 میٹر کے اندر اترا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ لینڈنگ کے دوران سافٹ ویئر نے بالکل توقعات کے مطابق کام کیا اور راستے میں ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے دو حکمت عملیاں اپنائی گئیں، جنہوں نے مشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
چاند کی سطح سے موصول ہونے والی ابتدائی تصاویر میں ایک ناہموار اور چٹانی زمین دیکھی جا سکتی ہے، جہاں بلیو گھوسٹ نے خودکار طریقے سے لینڈنگ کی۔
چاند پر پہنچنے سے قبل یہ خلائی جہاز ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا، لیکن لینڈنگ کے وقت اس کی رفتار صرف 20 میٹر فی گھنٹہ رہ گئی تھی۔
اس تاریخی لمحے کا مشاہدہ اپالو 11 کے 95 سالہ سابق خلا نورد بز ایلڈرن نے بھی اپنے گھر سے کیا اور بعد میں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو کے ساتھ مبارکباد کا پیغام بھی شیئر کیا۔