اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک حملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے خطاب میں اس گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جس نے اس کارروائی میں مدد فراہم کی۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اس افسوسناک حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ داعش سے منسلک دہشت گردوں نے امریکی فوجیوں سمیت درجنوں بے گناہ افراد کی جان لی تھی۔
انہوں نے اس گرفتاری کو ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے یہ اہم پیش رفت ہے، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی۔
اگرچہ ٹرمپ نے گرفتار کیے گئے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی، لیکن امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فرد محمد شریف اللہ ہے، جو مبینہ طور پر اس حملے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھا۔
رپورٹس کے مطابق، اس نے ماسکو میں مارچ 2024 میں ہونے والے بم دھماکے اور ایران میں متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی سیکیورٹی فورسز پہلے ہی اس کی تلاش میں تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں ایک سرحدی آپریشن کے دوران اسے گرفتار کر لیا گیا۔
یہ کارروائی امریکی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، لیکن پاکستان نے یہ آپریشن خود مختاری کے ساتھ انجام دیا اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد اسے امریکہ کے حوالے کر دیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شریف اللہ، جو جعفر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، افغانستان اور پاکستان میں داعش کے اہم رہنماؤں میں سے ایک تھا۔
امریکی حکام کے مطابق، اس نے کابل ایئرپورٹ حملے کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور وہ دھماکے کے تمام مراحل کی نگرانی کر رہا تھا۔
امریکی تحقیقاتی اداروں، بشمول ایف بی آئی، نے اس سے پوچھ گچھ کی ہے، جس کے دوران اس نے حملے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسے آج امریکہ منتقل کیا جائے گا، جہاں وہ دہشت گردی کے مختلف مقدمات کا سامنا کرے گا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس گرفتاری کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ کارروائی پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔