امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت بیان میں حماس کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر تمام یرغمالیوں کو رہا کرے، ورنہ سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی حکومت نے حال ہی میں قطر میں حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کی ہے، جو امریکی پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کرو اور ان تمام افراد کی لاشیں واپس کرو جنہیں تم نے قتل کیا، ورنہ تمہارے لیے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف بیمار اور ظالم لوگ لاشوں کو روکتے ہیں، اور تم لوگ بالکل ایسے ہی ہو!
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آٹھ سابقہ یرغمالیوں سے ملاقات کی، جنہیں غزہ میں قید سے رہائی ملی تھی۔
اسی دوران، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی کہ امریکی حکام نے حماس کے نمائندوں سے مذاکرات کیے ہیں، لیکن انہوں نے بات چیت کی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ وہ کسی سے بھی بات کر سکتے ہیں، اگر اس سے امریکی شہریوں کے مفادات کی حفاظت ممکن ہو۔
یہ بات چیت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی اور یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ نے حماس کے ساتھ براہ راست رابطہ کیا، کیونکہ 1997 میں امریکی محکمہ خارجہ نے حماس کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اس سے قبل، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حماس سے بات چیت کے لیے مصری اور قطری ثالثی کا سہارا لیا جاتا تھا۔
ادھر، اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے بھی امریکی حکام اور حماس کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کی تصدیق کی، لیکن اس پر مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، اس وقت تقریباً 24 زندہ یرغمالی، بشمول ایک امریکی شہری ایڈن الیگزینڈر، حماس کی تحویل میں ہیں، جبکہ 35 افراد کی لاشیں بھی غزہ میں موجود ہیں۔
حماس کے ایک عہدیدار، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات بنیادی طور پر امریکی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے پر مرکوز تھے، لیکن ان میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
تاہم، انہوں نے اس قدم کو مثبت قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ مزید بات چیت ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی صورتِ حال بھی غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی نگرانی میں ایک نیا امن منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت حماس کو اپنے نصف باقی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا، جس کے بدلے میں جنگ بندی میں توسیع اور حتمی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔
لیکن اسرائیل نے اس معاہدے میں مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا ذکر نہیں کیا، جو پہلے مرحلے کا ایک اہم جزو تھا۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آٹھ سابق یرغمالیوں سے ملاقات کی، جن میں ایئر ہورن، اومر شم طوف، ایلی شارابی، کیتھ سیگل، اویوا سیگل، نعما لیوی، درون اسٹین بریچر اور نوآ آرگامانی شامل تھے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے انتہائی توجہ سے ان کی المناک کہانیاں سنیں، اور یرغمالیوں نے انہیں اپنے محفوظ واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
یہ خبر سب سے پہلے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کی، جس کے مطابق امریکی حکومت نے حماس سے بات چیت کے لیے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر کو نامزد کیا تھا۔
بوہلر، جو صحت کے شعبے میں ایک سرمایہ کاری کمپنی کے سی ای او ہیں، اس سے قبل ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں ابراہیم معاہدے پر بات چیت کرنے والی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں، جس کا مقصد عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا مستقبل غیر واضح نظر آ رہا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی کے نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوئی تو وہ نیتن یاہو کو دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔