ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار، ونڈسر کیسل کے اسٹیٹ اپارٹمنٹس میں افطار کا انعقاد کیا گیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی اتحاد کی ایک خوبصورت علامت بن گیا۔
سینٹ جارج ہال میں منعقد ہونے والے اس تاریخی افطار میں 350 مسلمان، مختلف مذاہب کے رہنما اور معزز شخصیات شریک ہوئیں، جس سے باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
اس شام کا سب سے روح پرور لمحہ اس وقت آیا جب مغرب کی اذان شاہی دیواروں میں گونجی اور تمام شرکاء نے کھجور سے روزہ افطار کیا۔
یہ افطار محض ایک کھانے کی تقریب نہیں تھی بلکہ اس بات کا عملی مظاہرہ تھا کہ کس طرح مختلف مذاہب اور ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ جُڑ سکتی ہیں۔
اس یادگار موقع پر کنگ چارلس اور کوئین کمیلا کے ایک خالص اور محبت بھرے اقدام نے اسے مزید خاص بنا دیا۔
انہوں نے خود مہمانوں کے لیے کھجوریں پیک کیں، جو ایک رسمی عمل نہیں بلکہ مسلم کمیونٹی کے لیے گہری اپنائیت اور احترام کا اظہار تھا۔
کنگ چارلس ہمیشہ سے بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی رہے ہیں، اور یہ تقریب علامتی سے زیادہ، حقیقت میں دنیا میں امن، رواداری، اور باہمی احترام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تھی۔
اس نے یہ پیغام دیا کہ عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کے عقائد اور روایات کا احترام کریں۔
مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ ایک اہم سبق رکھتا ہے۔
اگر ایک غیر مسلم بادشاہ اسلامی اقدار اور روایات کی اتنی قدر کر سکتا ہے تو یہ مسلمانوں پر بھی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کو اسی خلوص اور عزت کے ساتھ قبول کریں۔
ونڈسر کیسل میں ہونے والا یہ شاہی افطار محض ایک رسمی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط پیغام تھا کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ عزت و محبت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
یہ مسلمانوں کے لیے بھی موقع ہے کہ وہ دنیا کو اسلام کا اصل پیغام—امن، محبت اور رواداری—پیش کریں، جو آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔