امریکی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا ہوگیا ہے، جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جوبائیڈن کی آخری لمحات میں دی گئی معافیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک حیران کن دعویٰ کر دیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے ان معافیوں پر خود دستخط نہیں کیے، بلکہ ان پر آٹو پین کے ذریعے دستخط کیے گئے تھے، جس کے باعث یہ معافیاں غیر مؤثر ہوچکی ہیں۔
امریکی اخبار دی ہل کے مطابق، ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر دھماکہ خیز پوسٹ میں اعلان کیا کہ بائیڈن کی جانب سے دی گئی معافیوں کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا، جوبائیڈن نے سیاسی ٹھگوں کی کمیٹی سمیت دیگر افراد کو جو معافی دی تھی وہ کالعدم اور مزید قابل عمل نہیں، کیونکہ ان پر آٹوپین سے دستخط کیے گئے تھے!”
یہ انکشاف امریکی سیاست میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بائیڈن نے اپنے آخری گھنٹوں میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ان افراد کو معافی دی تھی جو 6 جنوری 2021 کے یو ایس کیپیٹل ہل حملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کا حصہ تھے۔ مزید برآں، بائیڈن نے اپنے اہل خانہ، اعلیٰ حکام اور قریبی رفقاء کو بھی قبل از وقت معافی دے دی تھی، جس پر پہلے ہی کافی تنقید ہو رہی تھی۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ بائیڈن نے ان کاغذات پر دستخط نہیں کیے اور وہ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کو بائیڈن نے معافی دی ہے، انہیں اب اعلیٰ سطح پر تحقیقات” کا سامنا کرنا ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی آئین صدر کو کسی بھی شخص کو معافی دینے کا مکمل اختیار دیتا ہے، اور قانونی ماہرین کے مطابق، ایک صدر کی دی گئی معافی کو بعد میں آنے والا کوئی بھی صدر منسوخ نہیں کرسکتا۔ لیکن ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ بائیڈن نے معافی کے لیے آٹوپین کا استعمال کیا، ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی ایک ذیلی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بائیڈن نے عہدہ چھوڑنے سے قبل آٹوپین کا استعمال کرتے ہوئے معافی ناموں پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، بائیڈن انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا واقعی ایسا ہوا تھا یا نہیں۔
اس معاملے نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیا ٹرمپ کا یہ دعویٰ محض ایک سیاسی چال ہے، یا واقعی بائیڈن کی معافیوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے؟ کیا اس تنازعے کے نتیجے میں مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے،امریکہ کی سیاست میں گرمی مزید بڑھنے والی ہے