دنیا میں پہلی بار ایک ریلوے اسٹیشن تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا ہے، اور یہ واقعی ایک شاندار اور حیران کن خبر ہے جاپان، جو ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمیشہ سبقت رکھتا ہے، اب ایک نیا سنگ میل عبور کر رہا ہے۔
اوساکا شہر کے جنوب میں واقع واکایاما کے علاقے میں 108 اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلا یہ اسٹیشن صرف چھ گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ہاں، آپ نے درست پڑھا! پورا اسٹیشن محض چھ گھنٹوں میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا آغاز 25 مارچ کو وہاں کے پرانے اسٹیشن سے آخری ٹرین روانہ ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
جاپان ریلوے گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس نئے اسٹیشن کی تعمیر میں استعمال ہونے والے تمام مواد کو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیا جائے گا، اور پھر یہ مواد چھ گھنٹے کے اندر اسٹیشن کی شکل اختیار کر لے گا۔ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست طریقے مل کر تعمیراتی شعبے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف ریلوے اسٹیشنز کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہے، بلکہ مستقبل میں ماحول دوست میٹریل اور جدید تعمیراتی طریقوں کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس سے ہمیں امید ہے کہ دنیا بھر میں تعمیراتی منصوبوں میں زیادہ تیزی اور کم وسائل کے استعمال کے ذریعے ترقی کی راہیں کھلیں گی۔
اب یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ جاپان کے ریلوے گروپ نے ایک گمنام اسٹیشن کو اس منفرد پروجیکٹ کے لیے کیوں منتخب کیا۔ شاید اس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ تکنیکی جدت اور تیز رفتار ترقی کے لیے ہم کہیں بھی، کسی بھی چھوٹے سے مقام پر بھی نیا آغاز کر سکتے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف جاپان کی ٹیکنالوجی کی برتری کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ دنیا بھر میں تعمیرات کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی نوید بھی دیتا ہے۔