چین کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی نے اپنی جدید "سپر ای-پلیٹ فارم” کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کا معیار بدل ڈالا ہے! اب صرف پانچ منٹ کی چارجنگ میں گاڑیاں 400 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی میں شامل ہیں خصوصی بیٹریاں جو بیٹری کی گنجائش سے 10 گنا زیادہ تیز چارج ہو سکتی ہیں، اور طاقتور موٹرز، ہائی وولٹیج سلیکون کاربائیڈ پاور چپس کے ساتھ، بی وائی ڈی نے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔
یہ انقلابی ٹیکنالوجی چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، اور کمپنی کے لیے عالمی سطح پر نئے دروازے کھول رہی ہے۔ ٹیسلا، جو پہلے اس میدان میں سب سے آگے تھی، اس نئی پیشرفت کے سامنے کچھ پیچھے دکھائی دے رہی ہے۔ ٹیسلا کے شیئرز کی قیمت میں بی وائی ڈی کی اس کامیابی کے بعد 4.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں بی وائی ڈی کا یہ نیا چارجنگ سسٹم واقعی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
بی وائی ڈی نے چین بھر میں 4000 سے زائد نئے چارجنگ اسٹیشنز بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جو گاڑیوں کے مالکان کو تیز رفتار چارجنگ کی سہولت فراہم کریں گے۔ اس کا مقصد گاڑیوں کے چارجنگ ٹائم کو کم کرنا اور صارفین کو ایک نیا تجربہ دینا ہے۔ چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں گذشتہ سال 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ چینی ڈرائیوروں نے اس تبدیلی کو بھرپور طریقے سے قبول کیا ہے۔
اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی وائی ڈی کی یہ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر کتنی کامیاب ہوتی ہے اور کیا یہ ٹیسلا کی حکمت عملی کو چیلنج کر پائے گی