پرامن بقائے باہمی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دنیا بھر کی حکومتیں اس بات کو یقینی نہ بنائیں کہ وہ اسلام دشمنی سے کتنی جلدی اور نمٹتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے ٹیلی گراف میں لکھے گئے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے لکھا کہ : یہ انتہائی پریشان کن ہے کہ دنیا بھر میں اسلامو فوبیا بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ میں، یہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، پچھلے سالوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ مسلم مخالف واقعات کو ریکارڈ کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ برطانیہ میں اسلامو فوبیا کا تناسب پہلے کی بنسبت 43 فیصد بڑھ گیا ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے لکھا کہ بین الاقوامی اداروں کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے متعلق مقامی لوگوں کے خیالات میں شدت آئی ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گرد یا دہشت گردوں کے ہمدرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر العیسی نے لکھا کہ ایسے رویے معاشرتی تقسیم کو ہوا دیتے ہیں اور مسلم شناخت کے بارے میں غلط تصورات کو تقویت دیتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ اگر کمیونٹیز کے درمیان عدم اعتماد کو دور نہ کیا گیا تو برطانیہ مزید شدت پسندی کی طرف جائے گا اور اس کے تیزی سے تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رابطہ عالم اسلامی نے برطانیہ کی حکومت کے ساتھ ایک نئے ورکنگ گروپ کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی بہت زیادہ ہے، مسلمانوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا، آزادی اظہار پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، ایسے میں برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو برطانوی اقدار کو اپناتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر العیسی نے ٹیلی گراف کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں کہا کہ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رابطہ عالم اسلامی نے رواداری اور بقائے باہمی کا پیغام دیا ہے۔ ایک تنظیم کے طور پر ہم نے مسلم اقلیتی برادریوں کے مثبت انضمام کو فروغ دینے کے لیے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔
ہمارا پیغام بہت سادہ ہے کہ اسلام پر فخر کرنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا، قوموں کے جذبات کو مجروح کرنے کی بجائے انھیں عزت دیتا ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے لکھا کہ بحیثیت مسلمان یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ذھنوں کو کشادہ رکھیں، دوسرے مذاہب کے ساتھ پُل بنائیں اور تعاون بڑھائیں۔ لیکن میں واضح کر دوں کہ پرامن بقائے باہمی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ دنیا بھر کی حکومتیں اسلام کے خلاف دشمنی کے خاتمے کو یقینی نہیں بناتیں۔
مسلمانوں کو ان کے عقیدے کی بنا پر نشانہ بنانا یا لوگوں کے ساتھ ان کے مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک کرنا، نا مناسب ترین رویہ ہے۔
رمضان المبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کو گہرا کرنے اور اس بات پر غور کرنے کا وقت ہے کہ بطور مسلمان ہم اپنے ارد گرد کی دنیا کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر العیسی نے لکھا کہ اسلامی شناخت بین الاقوامی اور قومی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔ یہ شناخت مسلمانوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اپنے قومی آئین، قوانین اور ثقافتوں کا احترام کریں۔ مسلم تشخص غیر مسلموں سے دشمنی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کو اپنے عقیدے پر فخر اور برطانوی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔
ہم رابطہ عالم اسلامی کے ساتھ اس سلسلے میں کام کام کرنے والی برطانوی حکومت اور ورکنگ گروپ کو اپنی حمایت کی پیشکش کرتے ہیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو یاد دلاتے ہیں کہ برطانیہ سب کا گھر ہے۔