ایمازون نے اپنے عالمی انتظامی عملے میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 14,000 ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ کمپنی کا یہ اقدام 2025 تک مکمل ہونے کا امکان ہے اور اس کا مقصد اخراجات میں کمی اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ فنانشل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ایمازون کے اس فیصلے سے کمپنی کو سالانہ 210 کروڑ سے 360 کروڑ بھارتی روپے کی بچت متوقع ہے۔
یہ تبدیلیاں ایمازون کی تنظیم نو کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس میں سسٹین ایبیلٹی اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس میں کی جانے والی چھانٹیوں کے بعد مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی نے اپنے کچھ تجرباتی منصوبوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں ‘Try Before You Buy’ پروگرام اور فوری ڈیلیوری سروس شامل ہیں۔
ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی کی قیادت میں کمپنی کی حکمتِ عملی کا مقصد فیصلہ سازی کو تیز کرنا اور عالمی سطح پر اس کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمازون نے COVID-19 کی وبا کے دوران اپنی افرادی قوت میں خاصا اضافہ کیا تھا، لیکن اب وہ اپنے عملے کو مزید پالش اور بہتر بنانے کے لئے نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔
مزید برآں، ایمازون نے پاکستان کے 13,000 اکاؤنٹس کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جو اس کی انتظامی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ چھانٹیاں کمپنی کی وسیع تر تنظیمی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں، جو مستقبل میں ایمازون کے لئے مزید ترقی اور استحکام کی راہیں کھولیں گی۔