اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی سطح پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ "افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے”، جو کہ ایک سنگین تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ یہ بیان ہارورڈ یونیورسٹی کے امریکی طلبا کے وفد سے ملاقات کے دوران دیا گیا، جس میں انہوں نے پاکستان کی قومی، علاقائی اور عالمی امور پر موقف کو تفصیل سے پیش کیا۔
ایاز صادق نے امریکی طلبا کو بتایا کہ پاکستان کو دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "افغانستان دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان نے بار بار افغان عبوری حکومت کو دہشت گردی کے شواہد فراہم کیے ہیں اور یہ معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر بھی اٹھایا جا چکا ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر نہ صرف ہمارے ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، بلکہ یہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس آگ سے ہمسایہ ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے، اور دنیا کو اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینا ہو گا۔
اس ملاقات میں ایاز صادق نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان نے اس معاملے کو اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے سامنے بھی اٹھایا ہے، تاکہ عالمی برادری اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرے۔
دریں اثنا، سپیکر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سے رابطہ منقطع نہیں ہوا، ایک بیان جو سیاست میں جاری کشمکش کو مزید واضح کرتا ہے۔
ایاز صادق کے اس بیان سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے لیے افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردی ایک سنجیدہ اور عالمی توجہ کا متقاضی مسئلہ بن چکا ہے، جس پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔