امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تہران کو ایک نیا جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے صرف دو ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے۔
اس معاملے سے واقف ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ نے اس خط میں ایران کے جوہری عزائم پر سفارتی حل کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ خط صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی، اسٹیو وِٹکوف، کے ذریعے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کو پہنچایا گیا، جنہوں نے بعد میں اسے ایرانی قیادت تک پہنچا دیا۔
امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے خامنہ ای کو پیغام بھیجا ہے جس میں سفارتی حل کو ترجیح دی گئی ہے، لیکن اگر بات چیت ناکام ہوتی ہے تو دیگر متبادل ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
ہیوز کا کہنا تھا،صدر ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ ایران کے جوہری تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ایرانی جوہری مسئلے پر بھی بات چیت کی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے، اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ اس گفتگو میں اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران سے نمٹنے کے صرف دو راستے ہیں: یا تو فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے، یا ایک نیا جوہری معاہدہ کیا جائے۔
حالیہ انٹرویو انہوں نے ایک بار پھر سفارت کاری کو ترجیح دینے کی بات کی، لیکن خبردار بھی کیا کہ اگر ایران مذاکرات پر راضی نہیں ہوتا تو دیگر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایران براہ راست مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دے تو امریکہ کس طرح کا ردعمل دے گا، لیکن اعلیٰ امریکی حکام نے فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری ہیں، اور امکان ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکہ یا اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اپنی پہلی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے 2015 میں اوباما انتظامیہ کے طے کردہ جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا، اور بعد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حکم دیا تھا، جس سے امریکہ اور ایران کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔
اب، اپنی دوسری صدارت میں، ٹرمپ نے ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دوبارہ نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد تہران کو عالمی سطح پر تنہا کرنا ہے۔
دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مذاکرات کی امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی طاقتیں سفارتی مذاکرات کو مسائل کے حل کے بجائے دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، خامنہ ای نے کہا، جب کچھ بڑی طاقتیں مذاکرات پر اصرار کرتی ہیں، تو ان کا مقصد مسائل حل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی شرائط لاگو کرنا اور کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔‘