امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ تعلیم کو بند کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔اس فیصلے نے امریکی سیاست اور تعلیمی نظام میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب کے دوران، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم محکمہ تعلیم کو جلد از جلد بند کرنے جا رہے ہیں، اور اسکولوں کے معاملات اب ریاستوں کی ذمہ داری ہوں گے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستی گورنر اس فیصلے سے خوش ہیں کیونکہ یہ ان کے اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں تعلیمی معیار پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "ہمارے اسکولوں میں طلبا کو بنیادی ریاضی بھی نہیں آتی۔ محکمہ تعلیم کے پاس بڑی بڑی عمارتیں ہیں، مگر تعلیمی معیار میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔”
اس تاریخی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کی تقریب میں رپبلکن قانون سازوں اور اسکول کے بچوں کے ایک گروپ نے بھی شرکت کی، جو اس فیصلے کے حق میں نظر آئے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، یہ قدم امریکی تعلیم کی حالت کو بہتر بنانے اور ریاستوں کو اپنی تعلیمی پالیسیوں میں زیادہ آزادی دینے کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ملک بھر میں بحث و مباحثہ کا سبب بن چکا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ محکمہ تعلیم کی بندش سے امریکی تعلیمی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کیا یہ فیصلہ واقعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا یا پھر اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے؟