روس نے یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کے فوری حل کی امیدوں کو رد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے ابھی مذاکرات کا سلسلہ ابتدائی مراحل میں ہے۔
روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اس وقت ہم مذاکرات کے محض آغاز پر ہیں اور مستقبل میں پیچیدہ اور طویل گفت و شنید کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے نفاذ کے لیے متعدد پیچیدہ مسائل درپیش ہیں، جن میں مختلف سفارتی، تکنیکی اور عملی چیلنجز شامل ہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب میں دونوں ممالک کے وفود امریکی حکام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے یوکرین میں جاری جنگ کے جلد خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔
اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور یوکرین کی طرف سے پیش کیے گئے 30 دن کی مکمل جنگ بندی کے مشترکہ مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
پوتن کا مؤقف ہے کہ مکمل جنگ بندی کی بجائے صرف یوکرین میں توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
روس کا یہ فیصلہ اس کی اسٹریٹجک حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو مکمل جنگ بندی کی بجائے جزوی اقدامات پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔
دمتری پیسکوف نے اپنے ایک سوشل میڈیا انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ روس کے لیے آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے بلکہ ان میں کئی پیچیدگیاں اور سخت چیلنجز درپیش ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان مذاکرات کے دوران روس کی بنیادی توجہ 2022 میں کیے گئے بحیرہ اسود کے اناج معاہدے کی ممکنہ بحالی پر ہوگی۔
یہ معاہدہ یوکرین کو بحیرہ اسود کے ذریعے اپنی زرعی برآمدات کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتا تھا، لیکن روس کی علیحدگی کے بعد یہ معاہدہ معطل ہو چکا ہے۔
روسی حکومت کے مطابق، پیر کے روز ہونے والی بات چیت میں صدر پوتن کے بحیرہ اسود کے اقدام کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔
روسی مذاکرات کار اس مسئلے کی تمام باریکیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہوں گے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ معاہدے کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے یا نہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2023 میں روس نے ترکیہ اور اقوام متحدہ کے توسط سے طے پانے والے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
روس نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے روسی زرعی مصنوعات اور کھاد کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث روس اس معاہدے کا حصہ نہیں رہ سکتا تھا۔
روسی مؤقف کے مطابق جب تک اس کی زرعی برآمدات کو عالمی منڈی میں آزادانہ طریقے سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک وہ بحیرہ اسود کے معاہدے کی بحالی کے لیے تیار نہیں ہوگا۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا سفر ابھی طویل اور مشکل ہوگا، اور فوری طور پر کسی معاہدے یا جنگ بندی کا امکان نظر نہیں آ رہا۔
روسی قیادت محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنی شرائط کے بغیر کسی بھی دباؤ میں آنے کو تیار نظر نہیں آتی۔