کییف/ماسکو: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے ایک ایسا بیان دے کر سب کو حیران کر دیا ہے جس نے عالمی میڈیا میں طوفان برپا کر دیا۔ اپنےایک تازہ انٹرویو میں زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جلد ہی انتقال کر جائیں گے، اور یہ کہ "یہ ایک حقیقت ہے جو سب کچھ بدل دے گی”۔
زیلنسکی نے کہا کہ پیوٹن اپنی آخری سانس تک اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اور مغرب کے ساتھ براہ راست تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم، یوکرینی صدر نے اس بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا کہ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ 72 سالہ پیوٹن کی موت قریب ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے پیوٹن کی صحت کے حوالے سے افواہوں کا ایک طوفان چل رہا ہے۔ اکتوبر میں جاری ہونے والی کچھ تصاویر میں پیوٹن کے ہاتھوں پر عجیب نشانات دیکھے گئے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ شاید وہ کینسر کے علاج سے گزر رہے ہیں۔ کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیوٹن کو پارکنسن یا فالج جیسی بیماری لاحق ہو سکتی ہے، لیکن کریملن نے ہمیشہ ان افواہوں کو جھوٹ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں ایک روسی انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ پیوٹن کے پاس صرف 3 سال کی زندگی باقی ہے کیونکہ ان کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس افسر نے یہ بھی کہا تھا کہ پیوٹن بینائی کھو رہے ہیں اور ان کی صحت دن بدن گراوٹ کا شکار ہے۔
زیلنسکی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس-یوکرین جنگ میں ایک نئی تبدیلی آئی ہے۔ دونوں ممالک کے وفود نے سعودی عرب میں مذاکرات کے بعد بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ کیا زیلنسکی کا یہ بیان جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے، یا واقعی پیوٹن کی صحت خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے؟
#PutinHealth #ZelenskyStatement #RussiaUkraineWar