واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ نئے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو مذاکرات کی میز پر آئیں یا پھر تباہ کن نتائج کے لیے تیار رہیں۔
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ میری پہلی ترجیح ایران کے ساتھ پرامن معاہدہ کرنا ہے، لیکن اگر وہ مذاکرات سے انکار کرتے ہیں تو ہمارے پاس دوسرے اختیارات بھی ہیں۔ ہم کسی صورت ایران کو ایک اور جوہری بم بننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایران پر اضافی پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام بہت اچھے لوگ ہیں، میں انہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔
دوسری جانب، ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ہم نے عمان کے ذریعے ٹرمپ کے خط کا جواب بھیجا ہے، جس میں ہمارا موقف واضح کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران فی الحال امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا، لیکن ماضی کی طرح بالواسطہ مذاکرات کا امکان باقی ہے۔
معلومات کے مطابق، ٹرمپ کے خط میں ایران کو نئے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیےصرف 2 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر ایران اس عرصے میں کوئی واضح جواب نہیں دیتا تو امریکا نے اپنے دوسرے اختیارات استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے، جن میں سخت اقتصادی پابندیاں اور فوجی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ خط اور ایران کا جواب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگرچہ ایران نے ابھی تک مکمل طور پر مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے، لیکن امریکا کی جانب سے دباؤ بڑھنے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ کشمکش عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو ایک واضح الٹی میٹم دے دیا ہے، جبکہ ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے بالواسطہ بات چیت کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں دونوں ممالک کے اقدامات مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال کا تعین کریں گے۔