امریکہ نے ایران کے ڈرون نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایرانی کمپنیوں بلکہ متحدہ عرب امارات اور چین کی کئی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ادارے ایران کو ڈرون کے اہم پرزہ جات فراہم کر رہے تھے، جو بالآخر روس اور مختلف دہشتگرد گروپوں کے ہاتھوں میں پہنچ رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ انصاف کے مطابق ایران کی اس ڈرون سپلائی چین کو توڑنا ضروری تھا کیونکہ یہ ہتھیار عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ پابندیوں کی زد میں ایران، متحدہ عرب امارات اور چین کے چھ ادارے اور دو ایرانی شہری آئے ہیں، جن پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات مزید گہرے ہو رہے ہیں اور امریکی حکام مسلسل اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ پابندیاں ایران کے ڈرون نیٹ ورک کو کمزور کر سکیں گی، یا تہران کوئی نیا راستہ نکالے گا؟ یہ سوال عالمی سیاست میں مزید ہلچل مچا سکتا ہے۔