امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے تجارتی محصولات کے اعلان نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جس میں کئی عالمی رہنماؤں نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز ان عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ان محصولات کو غیر منصفانہ اور عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
ٹرمپ کے اعلان کے مطابق، 5 اپریل سے تمام درآمدات پر 10 فیصد بنیادی ٹیکس نافذ ہوگا، جبکہ تقریباً 60 ممالک بشمول یورپی یونین اور چین کو 9 اپریل سے مزید سخت محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چین، جسے ٹرمپ نے بدترین مجرم قرار دیا، پر 54 فیصد نیا درآمدی ٹیکس لگایا گیا ہے۔
چینی وزارت تجارت نے فوری طور پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ محصولات فوری طور پر منسوخ کرنے چاہئیں، بصورت دیگر چین مضبوط جوابی اقدامات کرے گا۔
یورپ میں بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، نے EU پر 20 فیصد ٹیرف کو "غلط فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام دونوں فریقین (EU اور امریکہ) کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے تجارتی جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کی حکومت ہسپانوی کاروبار اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے کام کرے گی اور کھلی معیشت کے عزم پر قائم رہے گی۔
اسی طرح، آئرلینڈ کے وزیر اعظم میہال مارٹن نے کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہوگا۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اپنے ملک پر 10 فیصد ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا جوابی محصولات عائد نہیں کرے گا لیکن منصفانہ تجارتی اصولوں کے لیے کام کرتا رہے گا۔
دوسری طرف، جاپان نے 24 فیصد درآمدی ٹیکس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام WTO قوانین اور امریکہ-جاپان معاہدوں کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے عبوری صدر ہان ڈک سو نے کہا کہ اب عالمی تجارتی جنگ حقیقت بن چکی ہے اور ان کی حکومت اس بحران سے نکلنے کے حل تلاش کرے گی۔
مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے اقتصادی ماہرین مکمل صدمے میں ہیں، کیونکہ امریکی درآمدات پر تمام محصولات ختم کرنے کے باوجود، اس پر 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔
برازیل نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اقتصادی باہمی اقدامات کا قانون” منظور کر لیا تاکہ 10 فیصد ٹیکس کے خلاف جوابی کارروائی کی جا سکے۔
وائٹ ہاؤس نے ان محصولات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی ہے جو امریکی اشیاء پر زیادہ ٹیرف لگاتے ہیں یا امریکی اقتصادی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہ محصولات لاکھوں کینیڈینز کو براہ راست متاثر کریں گے اور ان کی حکومت جوابی اقدامات کرے گی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ اگر ممالک جوابی کارروائی کریں گے، تو کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
تاہم، عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے ساتھ، ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ ایک بڑی تجارتی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔