20 جنوری 2025 کو، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار امریکی صدارت کا حلف اٹھایا، تو ایلون مسک کو "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” (ڈوج) کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ مسک، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی کے طور پر مشہور تھے، اس عہدے پر آتے ہی وفاقی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کا مشن ایک ٹریلین ڈالر کی بچت تھا، لیکن ان کے متنازع فیصلوں نے شدید تنقید کو جنم دیا۔
مسک نے اپنے ٹوئٹر (اب ایکس) کے تجربے سے متاثر ہو کر 28 جنوری کو 24 لاکھ وفاقی ملازمین کو ایک ای میل بھیجی، جس میں آٹھ ماہ کی تنخواہ کے بدلے استعفے کی پیشکش کی گئی۔ اگرچہ 75 ہزار ملازمین نے یہ آفر قبول کر لی، لیکن یہ تعداد سالانہ ریٹائرمنٹ کی شرح کے برابر تھی۔ فروری میں انہوں نے امریکی ٹریژری کے ادائیگی کے نظام تک رسائی حاصل کرکے یو ایس ایڈ کو بند کردیا، جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن سائنسز کے 900 ملین ڈالر کے معاہدے بھی منسوخ کر دیے۔ ان کے احکامات کے نتیجے میں افراتفری پھیل گئی، جب انہوں نے ملازمین سے اپنے کام کی تفصیل طلب کی اور خبردار کیا کہ جواب نہ دینے والوں کو برطرف سمجھا جائے گا۔
مسک کی اصلاحات پر عوامی ردعمل تیزی سے شدید ہوتا گیا۔ "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن” تحریک نے 500 سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں سے 200 صرف امریکہ میں ہوئے۔ مظاہرین نے ان کے فیصلوں کو تباہ کن قرار دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ، جرمنی، اور دیگر ممالک میں ٹیسلا گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ سی این این کے مطابق، 29 مارچ کو ٹیسلا ٹیک ڈاؤن گلوبل ڈے آف ایکشن کے تحت عالمی سطح پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔
مسک نے اپنی توجہ یورپی سیاست پر بھی مرکوز کی، جس نے مزید تنازعات کو جنم دیا۔ جنوری میں انہوں نے جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت "الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ” کی حمایت کا اعلان کیا، جس پر جرمن رہنماؤں نے سخت مذمت کی۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے ان پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے انہیں "ری ایکشنری انٹرنیشنل” کا حصہ قرار دیا۔ ان کی مداخلت کے باعث ٹیسلا کی یورپی منڈی میں طلب 59 فیصد کم ہوگئی۔
ٹیسلا کے بورڈ اور ٹرمپ انتظامیہ نے مسک کو کاروبار پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔ بڑھتے ہوئے احتجاج، قانونی چیلنجز، اور کاروباری دباؤ کے پیشِ نظر، 2 اپریل 2025 کو انہوں نے اچانک اپنے عہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ ان کے استعفے کی خبر آتے ہی ٹیسلا کے حصص میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جو دسمبر 2024 میں 263.55 ڈالر سے گر کر 145 ڈالر پر آ گئے تھے۔ تاہم، مسک کی دولت میں 126 ارب ڈالر کی کمی ہوچکی تھی۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسک نے اعتراف کیا کہ "حکومت میں شامل ہونا میری کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔” ڈیلی میل کے مطابق، ٹرمپ نے مسک کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ایلون نے بہترین کام کیا، لیکن اب وہ اپنی کمپنیوں پر توجہ دیں گے۔ ان کا استعفیٰ 130 دن کی مدت سے 57 دن قبل سامنے آیا، جس کے اثرات مستقبل میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
مسک کے ان 73 دنوں میں امریکی حکومت میں ایک بڑے انقلاب کی کوشش دیکھی گئی، لیکن اس کے نتیجے میں 600 سے زائد مظاہرے، 30 سے زائد پرتشدد واقعات، قانونی چیلنجز، اور معاشی بحران نے جنم لیا۔ اگرچہ ان کی دستبرداری سے ٹیسلا کو کچھ استحکام ملا، لیکن ان کے متنازع اقدامات کی بازگشت برسوں تک سنی جاتی رہے گی۔