ریان ایئر نے ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے گزشتہ مالی سال میں 202 ملین مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔ جرمنی کی اس کم خرچ ایئر لائن نے اعلان کیا کہ مارچ کے آخر تک ختم ہونے والے مالی سال میں کمپنی کی کارکردگی نے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔
ریان ایئر کے سی ای او مائیکل او لیاری نے اس کامیابی کو مسافروں کے اعتماد اور کمپنی کے موثر بجٹ ماڈل کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف ہوائی سفر کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہے۔ کمپنی کی کامیابی کے اہم عوامل میں 30-50 یورو میں پیش کیے جانے والے سستے ٹکٹس، 35 نئے راستوں کا اضافہ، اور جدید ایندھن بچانے والے جہازوں کا بیڑا شامل ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ ریان ایئر نے ہوائی سفر کو ٹرین اور بس کے متبادل کے طور پر پیش کر کے سفر کو زیادہ سہل بنا دیا ہے۔ مستقبل میں کمپنی کا ہدف 2030 تک 300 ملین مسافروں کو خدمات فراہم کرنا اور اپنے بیڑے میں 200 نئے جہازوں کا اضافہ کرنا ہے، جبکہ ماحول دوست ایندھن کے استعمال کو بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ریان ایئر کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ سستا ہوائی سفر اب ایک حقیقت بن چکا ہے اور یورپ میں ہوائی سفر روزمرہ کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔