کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے ٹیرف کے جواب میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی ہے، جس سے عالمی تجارتی تنازعات میں مزید شدت آ گئی ہے۔ یہ جوابی اقدام کینیڈا کی طرف سے ایک مضبوط پیغام ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی ٹیرف کے اثرات کو نظرانداز نہیں کریں گے۔
کینیڈا کے اس فیصلے نے عالمی منڈی میں ہلچل مچادی ہے اور ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف دیگر ممالک کو بھی تحریک دی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھائیں۔ کینیڈا کا یہ قدم نہ صرف امریکی گاڑیوں کی درآمدات کو متاثر کرے گا، بلکہ دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں تناؤ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے چھیڑی گئی عالمی جنگ عالمی معیشت کو تباہ کردے گی۔ آئی ایم ایف نے بھی ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیدیا۔ اور کہا کہ امریکا شرح نمو کے وقت عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرے۔
یہ فیصلہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین اشارہ ہے کہ تجارتی جنگ کے اثرات اب سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے اور عالمی سطح پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ کینیڈا نے اس اقدام سے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے اقتصادی مفادات کی حفاظت کرے گا، اور اس کے اس جوابی اقدام کے بعد عالمی تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی کا سامنا ہو سکتا ہے۔