امریکی خفیہ ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سربراہ جنرل ٹموتھی ہاؤگ کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جس سے واشنگٹن میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہاؤگ کی برطرفی کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی، تاہم یہ فیصلہ امریکی حکومت کی جانب سے ایک اہم تبدیلی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جنرل ہاؤگ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ان کی نائب وینڈی نوبل کو بھی این ایس اے سے ہٹا کر پینٹاگون میں ایک نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ٹموتھی ہاؤگ، جو امریکی سائبر کمانڈ کے سربراہ بھی تھے، پینٹاگون کی سائبر وار فیئر کی قیادت کرتے تھے، جہاں جارحانہ اور دفاعی سائبر آپریشنز کو منظم کیا جاتا ہے۔ ان کی برطرفی سے امریکی سائبر سیکیورٹی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر جب کانگریس کے ڈیموکریٹک رکن جم ہیمس نے اس پر اپنے گہرے خدشات کا اظہار کیا، اور کہا کہ وہ ہاؤگ کی ایمانداری اور قانون کے احترام کی بنا پر ان کی برطرفی پر حیران ہیں۔
یہ برطرفی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تحت مسلح افواج میں کی جانے والی تبدیلیوں کا حصہ ہے، جنہوں نے اپنے اقتدار کے آغاز سے ہی اعلیٰ فوجی افسران کو ہٹانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے جنرل چارلس ’سی کیو‘ براؤن کو بھی برطرف کیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے سرکاری اداروں اور ان کے سربراہوں میں بڑی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اب این ایس اے کے عارضی سربراہ کی حیثیت سے امریکی سائبر کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر ولیم جے ہارٹ مین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیلا تھامس کو مقرر کیا گیا ہے، جو اس حساس ادارے کی قیادت سنبھالیں گے۔ یہ برطرفی نہ صرف امریکی خفیہ خدمات کے مستقبل کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا رہی ہے، بلکہ عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے میدان میں بھی نئی چیلنجز اور تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔