واشنگٹن/نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک "ٹیرف بم” نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ صرف 48 گھنٹوں میں عالمی اسٹاک مارکیٹس پانچ سال کی بدترین مندی کی لپیٹ میں آ گئیں اور سرمایہ کاروں کے ساٹھ کھرب ڈالر سے زائد ڈوب گئے—یہ رقم کئی ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ دو روز قبل صدر ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر بھاری جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی جنگ اتنی وسعت اختیار کر چکی ہے کہ انٹارکٹیکا کے قریب وہ ویران جزائر بھی زد میں آ گئے، جہاں صرف پینگوئنز بسیرا کرتے ہیں اور انسان آخری بار ایک دہائی قبل پہنچے تھے۔
معاشی زلزلے کے اثرات دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں دکھائی دیے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل اوسط میں پانچ فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 4.6 فیصد نیچے آ گیا۔ نیسڈک بھی 4.7 فیصد گر گیا۔ لندن کا FTSE 100 انڈیکس کووڈ کے بعد کی بدترین پانچ فیصد مندی کا شکار ہوا۔ جرمنی اور جاپان کی مارکیٹیں بھی شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی، جو گزشتہ چار برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاویل نے معاشی سست روی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم صدر کے دباؤ کے باوجود شرحِ سود میں کمی سے صاف انکار کر دیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی سخت ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ ٹیرف دنیا کی پہلے ہی سست ہوتی معیشت پر کاری ضرب ثابت ہو سکتا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور اٹلی کے وزرائے اعظم نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے معاشی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دنیا ایک نئی معاشی ہنگامی صورتِ حال کی طرف بڑھ سکتی ہے، جہاں ٹیرف ہتھیار بن چکا ہے اور اب پینگوئنز تک محفوظ نہیں