بین الاقوامی سطح پر تجارتی کشیدگی کا جو طوفان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی پالیسیوں کے نتیجے میں اٹھا ہے، اس نے نہ صرف سرمایہ کاری کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ حالیہ برسوں میں کورونا وبا کے بعد بتدریج سنبھلتی ہوئی عالمی سٹاک مارکیٹس کو ایک نئی بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے، اور یہ رجحان بدستور سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ان کی سخت گیر معاشی پالیسیوں اور تجارتی تحفظات پر مبنی فیصلوں نے عالمی مالیاتی نظام کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ چین دباؤ میں آ گیا ہے اور ایسے فیصلے کر رہا ہے جو درحقیقت اس کے اپنے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی موجودہ حکمت عملی پر کاربند رہیں گے اور کسی دباؤ یا ردعمل سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب چین نے تجارتی دباؤ کا جواب دیتے ہوئے اہم امریکی کمپنیوں کو غیر معتبر اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور ساتھ ہی بعض حساس معدنیات کی برآمدات کو محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری معاشی کشمکش مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
معروف ریپبلکن سینیٹر اور صدر ٹرمپ کے حامی، ٹیڈ کروز نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق محصولات میں اضافے کا نتیجہ امریکی صارفین پر غیر معمولی مالی بوجھ کی صورت میں نکلے گا، جو کئی کھرب ڈالرز کے اضافی ٹیکسوں کا باعث بنے گا۔
اپنے پوڈ کاسٹ میں انہوں نے تنبیہ کی کہ اس طرز کی پالیسیاں نہ صرف ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ ریپبلکن جماعت کے سیاسی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں صدر ٹرمپ نے تمام درآمدات پر عمومی طور پر 10 فیصد اور بعض ممالک، جن میں چین اور یورپی یونین شامل ہیں، سے درآمد کی جانے والی مخصوص اشیاء پر اس سے بھی زیادہ محصولات نافذ کر دی ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں جمعے کو امریکی اور عالمی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھنے میں آئی۔
ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 9.08 فیصد، ٹیکنالوجی سے وابستہ نیس ڈیک انڈیکس میں 10.02 فیصد، اور ڈاؤ جونز انڈیکس میں 7.86 فیصد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
حتیٰ کہ ایشیائی منڈیوں میں بھی منفی اثرات دیکھنے کو ملے، جہاں جاپان کا نکی 225 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر ہی 1.8 فیصد نیچے آ گیا۔
اس غیر یقینی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی مالیاتی ادارہ جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ سال کے اختتام تک عالمی معیشت کے کساد بازاری کا شکار ہونے کے امکانات 60 فیصد تک جا پہنچے ہیں، جو اس سے قبل صرف 40 فیصد تھے۔
سرمایہ کاری کے حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم استحکام اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی تجارتی میدان میں جاری کشمکش آنے والے دنوں میں نہ صرف منڈیوں کو ہلا سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کی بنیادوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔