جنوبی کوریا میں سیاسی منظرنامہ اس وقت بڑی تبدیلی سے گزرا جب آئینی عدالت نے صدر یون سک یول کو عہدے سے برطرف کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔
اس فیصلے کے بعد اب ملک میں نئے صدارتی انتخابات کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جو قانون کے مطابق ساٹھ دن کے اندر کرانا لازمی ہیں۔
آئندہ چند دنوں میں انتخابی تاریخ کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔
یون سک یول پر الزام تھا کہ انہوں نے 3 دسمبر کو جمہوری حکومت کو معطل کرنے کی کوشش کی تھی اور پارلیمان میں مسلح فوجی اہلکار تعینات کر دیے تھے، جو کہ آئینی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
ان اقدامات کے باعث ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے ججز نے اس مقدمے میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ صدر یون نے آئینی ذمہ داریوں کی شدید خلاف ورزی کی ہے اور ان کے اقدامات ملک میں قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے لیے خطرہ بنے۔
عدالت نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ عوام کے اعتماد سے کھلا دھوکہ بھی ہے۔
فیصلے کے وقت عدالت میں موجود حزب اختلاف کے ارکان نے تالیاں بجا کر فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ملک کی تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا، جبکہ صدر یون کے حامی قانون ساز خاموشی سے عدالت سے باہر چلے گئے۔
دوسری طرف، یون سک یول کے حامیوں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جبکہ کئی افراد کو غصے میں ان ججز کو دھمکیاں دیتے بھی سنا گیا۔
عدالت کے باہر اور اردگرد کے علاقوں میں پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہوئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
لاکھوں شہریوں نے یہ عدالتی کارروائی ٹی وی پر براہ راست دیکھی، جبکہ مشہور ایپ کاکاؤ ٹاک پر بھی لائیو نشریات ہوئیں، جس کی سروس غیرمعمولی ٹریفک کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے متاثر ہو گئی۔
عدالت کے قائم مقام صدر مون ہیونگ بائے نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین اقدامات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
یہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے جب کسی صدر کو عدالت نے مواخذے کے بعد عہدے سے ہٹایا ہے۔
اس سے قبل 2017 میں سابق صدر پارک گیون ہائے کے خلاف بھی ایسا ہی عدالتی فیصلہ آ چکا ہے۔
ملک بھر میں اس عدالتی فیصلے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ کئی افراد خوشی سے رو پڑے۔
ایک 25 سالہ نوجوان کم من جی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، جب عدالت نے برطرفی کا اعلان کیا تو ہم سب نے ایک ساتھ کہا، آج ہم شہریوں نے جیت حاصل کی ہے۔