کریوی رگ ایک ایسا شہر جو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی پہچان ہے، آج المیہ اور لہو میں ڈوبا ہوا ہے۔ روس کی جانب سے کیے گئے تازہ بیلسٹک میزائل حملے نے نہ صرف عمارتیں گرائیں بلکہ امیدوں اور خوابوں کے آنگن بھی اجاڑ دیے۔
اس دل دہلا دینے والے حملے میں 18 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 9 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ 61 افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی بچوں کی حالت نازک ہے۔
دنیپروپیٹروسک کے گورنر سیرگئی لائساک نے رات بھر جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، یہ ایسا درد ہے جس کی تمنا انسان اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی نہیں کرتا۔
کریوی رگ کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسزینڈر ولکول نے اس ہلاکت خیز سانحے کو حالیہ ہفتوں کا سب سے مہلک حملہ قرار دیا۔ میزائل ایک ایسے رہائشی علاقے پر گرا جہاں بچوں کا کھیل کا میدان بھی تھا۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بچے کی لاش جھولے کے پاس پڑی ہے ایک منظر جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
ولکول نے اعلان کیا کہ 7، 8 اور 9 اپریل کو شہر بھر میں تین روزہ سوگ منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، بچوں، خاندانوں، بوڑھوں اور رہائشی علاقوں پر حملے کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ عام شہریوں کا قتل عام ہے۔
ادھر، روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ دھماکہ خیز میزائل اس ریستوراں پر گرایا گیا جہاں یوکرینی کمانڈر اور مغربی انسٹرکٹرز موجود تھے۔ تاہم یوکرینی کمانڈر نے اسے ایک مذموم جنگی جرم چھپانے کی کوشش قرار دیا اور روس پر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا الزام عائد کیا۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق، روس نے ایک ہی رات میں 92 ڈرون حملے کیے، جن میں سے 51 کو مار گرایا گیا، جبکہ باقی ڈرونز غیر رہائشی علاقوں میں گرے۔
دوسری طرف، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ یہ جنگ چند دنوں میں ختم کروا سکتے ہیں۔ تاہم ان کی ٹیم ابھی تک دونوں فریقین کو ایک قابل قبول امن معاہدے تک نہیں لا سکی۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے تازہ حملے کے بعد کہا، روس کی نیت جنگ ختم کرنے کی نہیں، بلکہ اسے طول دینے کی ہے۔ دنیا یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کییف میں برطانوی اور فرانسیسی افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی جس میں یوکرین کے لیے ممکنہ فوجی امداد پر بات چیت ہوئی ایک اور اشارہ کہ یورپ روس کے خلاف ایک نئے عزم کے ساتھ متحد ہو رہا ہے۔