شام کے نو مقرر کردہ وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا پہلا سرکاری سفارتی دورہ سعودی عرب ہوگا۔ یہ دورہ نئے سال کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے اور یہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی جانب سے دی گئی دعوت کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جسے شام کی عبوری حکومت اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو شام کے لیے ایک اہم موقع اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے نئے دروازے کھولنے کے طور پر تعبیر کیا جا رہا ہے۔
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے پیغام میں اس دورے کو اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موقع ان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ دورہ شام کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
الشیبانی نے سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی شام کے لیے عرب دنیا میں اپنے قدیم مقام کو واپس حاصل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ دورہ سعودی عرب اور شام کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات کا نتیجہ ہے، جن میں سعودی عرب نے شام کے داخلی امور میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور ملک کے اتحاد اور استحکام کے حوالے سے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ شام کے مستقبل میں مثبت تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس ضمن میں سعودی عرب کی مدد شامی عوام کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوگی۔
اس ماہ کے آغاز میں سعودی عرب کے شاہی دیوان کے ایک مشیر کی قیادت میں سعودی وفد نے دمشق کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شام کی عسکری آپریشنز ایڈمنسٹریشن کے سربراہ احمد الشراء سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران، الشرع نے سعودی عرب کے مثبت رویے کو سراہا اور شام کی تعمیر نو میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا۔
احمد الشرع کا کہنا تھا کہ سعودی اقدامات شام کی بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جو ملک میں جاری جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپنے دورے کو شامی سفارتکاری میں ایک نیا موڑ قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ شام کے عرب سیاسی منظرنامے میں اپنی موجودگی کو دوبارہ ثابت کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس دورے کے دوران سعودی عرب کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے سعودی حکام سے ملاقات کریں گے اور شام کی اقتصادی بحالی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے سعودی عرب کی فعال حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
الشیبانی کے مطابق سعودی عرب کا تعاون شام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بہت ضروری ہے اور اس سے شام میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب شام میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ 8 دسمبر 2023 کو شام میں بشار الاسد کے مخالف گروپوں نے دمشق کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں بعث پارٹی کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔
اس کے بعد شام کے سابق صدر بشار الاسد روس فرار ہو گئے، اور ان کے 25 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد عارضی شامی حکومت نے 21 دسمبر 2023 کو اسعد الشیبانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا، اور وہ اسد کے بعد کے دور میں پہلے اعلیٰ سفارتکار بن گئے۔ یہ قیادت کی تبدیلی شام کے لیے ایک نئے بین الاقوامی تعلقات قائم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
سعودی عرب کی شام کے ساتھ دلچسپی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں ہے۔ سعودی حکام نے شام کے داخلی مسائل اور بحران سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کی خودمختاری کو برقرار رکھنا، اس کے عوام کی حفاظت کرنا اور ملک کے وسائل کا تحفظ کرنا سعودی عرب کے لیے ترجیحی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی عرب نے شام کے سیاسی استحکام اور اقتصادی بحالی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کے بارے میں احمد الشرع نے کہا کہ سعودی عرب کی سرمایہ کاری شام کے اقتصادی بحالی کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کے مثبت کردار کی قدر کرتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ سعودی سرمایہ کاری شام کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد سے شام کی بحالی میں تیزی لائی جا سکتی ہے اور اس کے عوام کو بہتر زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
الشیبانی کے دورے کے دوران ایک اہم موضوع سعودی عرب کی جانب سے شام میں سرمایہ کاری کا امکان ہوگا۔ سعودی عرب میں وسیع وسائل اور مہارت موجود ہے اور وہ خاص طور پر بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں شام کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے نہ صرف شام کی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ عوامی سطح پر بھی بہتری لانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس دورے کے ذریعے سعودی عرب اور شام کے تعلقات میں نئی اہمیت کا آغاز ہو گا، جو نہ صرف ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ یہ عرب دنیا میں شام کی دوبارہ شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔
سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات شام کی ترقی اور امن کے لیے ایک مثبت تبدیلی کی علامت بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس دورے کے بعد شام اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہوگی، جس سے نہ صرف شام کی اندرونی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ اس کے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شامل ہونے کا راستہ بھی ہموار ہو گا۔
شام کی عبوری حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی سفارتکاری کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ عالمی برادری، سعودی عرب کی قیادت میں، شام کی بحالی اور مفاہمت کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سعودی عرب کا یہ دورہ محض ایک علامتی اشارہ نہیں ہے، بلکہ یہ شام کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے کی ایک مضبوط اور حقیقت پسندانہ کوشش ہے۔ اس سے شام کی تعمیر نو کی راہ میں مزید تعاون کی امید کی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کے مقام کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔