حماس نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی جس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو مؤخر کیا گیا، اور اسے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ اقدام معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناقابلِ اعتماد ہے۔
اسرائیل نے پہلے 620 فلسطینی قیدیوں اور حراستی افراد کو رہا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن بعد میں اعلان کیا کہ ان کی رہائی کو اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے گا جب تک حماس اگلے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی نہیں بناتی۔
اسرائیلی حکومت نے دعویٰ کیا کہ قیدیوں کے تبادلے کے دوران توہین آمیز تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔
حماس نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کو عزت و وقار کے ساتھ حوالے کیا جا رہا ہے۔
عزت الرشق کے مطابق، اصل توہین وہ طریقے ہیں جن سے اسرائیلی حکام فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں، جیسے انہیں آنکھوں پر پٹی باندھنا، ہاتھ باندھنا اور رہائی کے بعد جشن نہ منانے کی دھمکیاں دینا۔
جنگ بندی کے معاہدے کا مستقبل اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔