یورپی یونین نے شام پر عائد توانائی، بینکنگ، ٹرانسپورٹ اور تعمیر نو سے متعلق پابندیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں کیا گیا، جہاں مختلف اقتصادی شعبوں میں نرمی پر اتفاق کیا گیا۔
اس فیصلے کے تحت توانائی کے شعبے میں تیل، گیس اور بجلی سے متعلق عائد پابندیوں کو ختم کر دیا گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نرمی کی گئی۔
مزید برآں، یورپی یونین نے شام کے پانچ بینکوں کے منجمد اثاثے بحال کر دیے اور مرکزی بینک پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کر دی۔
انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے دی گئی رعایت کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب دسمبر میں ھیتہ التحریر الشام کی قیادت میں باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
اس کے بعد یورپی ممالک نے اپنی پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی تھی۔
تاہم، یورپی یونین نے بعض دیگر پابندیوں کو برقرار رکھا ہے، جن میں ہتھیاروں کی تجارت، فوجی و سول دونوں استعمال کے قابل اشیاء، نگرانی کے لیے سافٹ ویئر، اور شام کے ثقافتی ورثے کی بین الاقوامی تجارت شامل ہیں۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ مستقبل میں مزید فیصلے کیے جا سکیں۔