اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، اور آج ایک سینئر حماس عہدیدار نے تصدیق کی کہ اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ مذاکرات دوبارہ کب یا کیسے شروع ہوں گے۔
پہلے مرحلے کی جنگ بندی کے نتیجے میں غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی رک گئی تھی۔
اس کے تحت 33 یرغمالیوں کو آزاد کیا گیا، جن میں آٹھ لاشیں بھی شامل تھیں، جبکہ تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
معاہدے کے مطابق لڑائی اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوگی جب تک دوسرے مرحلے کے مذاکرات جاری رہیں گے۔
اس مرحلے میں باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے پر کام کیا جائے گا۔
مصر، قطر، اسرائیل اور امریکہ کے حکام قاہرہ میں مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
حماس ان مذاکرات میں براہ راست شریک نہیں، لیکن مصر اور قطر کے ثالثوں کے ذریعے اپنی رائے پیش کر رہی ہے۔
تاہم، اسرائیلی مذاکراتی ٹیم جمعہ کے روز قاہرہ سے کسی نتیجے پر پہنچے بغیر روانہ ہوگئی۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن، باسم نعیم نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ثالث دوبارہ کب قاہرہ واپس آئیں گے اور مذاکرات کا سلسلہ کب بحال ہوگا۔
ادھر، حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ بغیر کسی تاخیر کے معاہدے کو مکمل کرے۔
جنگ بندی کی توسیع کے حوالے سے ایک بڑا تنازعہ اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ تجویز ہے، جس کے تحت وہ رمضان کے پورے مہینے تک 42 دن کی مزید جنگ بندی چاہتا ہے۔
اور اس کے بدلے مزید قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کی پیشکش کر رہا ہے۔
تاہم، حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اصل معاہدے سے متصادم ہے۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بیان دیا ہے کہ مذاکرات میں غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی بات ہو رہی ہے تاکہ خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی، جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
اس کے جواب میں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑا آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں 48,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق، مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، تاہم، ان میں عام شہری اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کی گئی ہے۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے ایک ملین فلسطینیوں کو خوراک کی امداد فراہم کی۔
اس عارضی امن نے نہ صرف بیکریوں کو دوبارہ کھولنے اور راشن تقسیم کے مراکز کو بحال کرنے کا موقع دیا، بلکہ مالی امداد کے منصوبوں میں بھی وسعت آئی۔
WFP نے زور دیا کہ جنگ بندی قائم رہنی چاہیے، اور بیان میں کہا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہونا چاہیے۔