لبنان کے صدر جوزف عون نے اپنے پہلے انٹرویو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جو خودمختاری کے اصولوں پر کاربند ہو اور جنگ و امن کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ ملکی معاملات میں ریاست کی حاکمیت ہونی چاہیے اور ہتھیاروں پر اس کا مکمل کنٹرول ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط اور مستحکم ریاست ہی قومی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے، اور اسی مقصد کے تحت وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہیں۔
ان کے مطابق، لبنانی سرزمین کا مکمل تحفظ اور سلامتی برقرار رکھنا صرف ریاست کا فرض ہے، اور کوئی دوسرا گروہ یا تنظیم اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
عون نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ لبنان کو ایک جامع دفاعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو نہ صرف عسکری پہلوؤں کو مدنظر رکھے بلکہ اقتصادی اور مالیاتی شعبوں کو بھی شامل کرے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے تمام تنازعات کو حل کیا جائے گا کیونکہ لبنان مزید جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسرائیل کے زیر قبضہ جنوبی لبنانی علاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اور ان تمام مقامات سے فوج ہٹانی چاہیے جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے دوران قبضہ کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ فرانس اور امریکہ سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اسرائیل پر ان علاقوں سے انخلا کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے، خاص طور پر جب کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز اور سیٹلائٹس کے ذریعے نگرانی ممکن ہو چکی ہے اور فوجی موجودگی کی کوئی عملی ضرورت باقی نہیں رہی۔
اپنے پہلے سرکاری دورے کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا پہلا انتخاب سعودی عرب ہے کیونکہ یہ خطے میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور عالمی امن کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس دورے میں لبنان کے لیے فوجی امداد کی بحالی پر بھی بات چیت کریں گے۔
شام کے ساتھ تعلقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، عون نے اس بات پر زور دیا کہ وہ دمشق کی نئی قیادت کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کو اپنی مشترکہ سرحد کی حد بندی کرنی چاہیے اور غیر قانونی سرگرمیوں، خاص طور پر اسمگلنگ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں کے مسئلے پر، انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کو اپنے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور بے گھر افراد کی بحالی کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
ان کے مطابق، شام میں جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، لہٰذا وہاں سے آئے ہوئے مہاجرین کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے تاکہ لبنان پر بوجھ کم ہو اور ملک میں استحکام پیدا ہو۔