امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کو ایک خوبصورت ساحلی تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو فلسطینی قیادت نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
فلسطینی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ فارسین آغابیکیان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ منصوبہ غزہ کے اصل رہائشیوں کو شامل کیے بغیر بنایا جاتا رہے گا، تب تک اسے کسی صورت قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔
آغابیکیان نے اس منصوبے کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غزہ کو ایک جدید اور ترقی یافتہ مقام میں تبدیل کرنا ایک مثبت سوچ ہو سکتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں مقامی لوگوں کو بھی شامل کیا جائے۔
ان کے مطابق، اگر فلسطینی باشندوں کو ان کے ہی علاقے سے بےدخل کر کے کسی اور جگہ بسانے کی کوشش کی گئی، تو یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے لوگ ایک طویل عرصے سے مشکلات اور بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس لیے اگر واقعی کوئی ترقیاتی منصوبہ بنایا جا رہا ہے تو اسے ان ہی کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ باہر سے آنے والے لوگوں کے لیے ایک تفریحی مقام بنانے کے لیے۔
انہوں نے کہا، یہاں کے رہائشی اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں ایک بہتر زندگی میسر ہو، نہ کہ انہیں اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کر دیا جائے۔‘
آغابیکیان، جو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے سلسلے میں جنیوا کے دورے پر تھے، وہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے صحافیوں سے بات چیت کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف فلسطینی قیادت کو کرنا چاہیے، نہ کہ کسی دوسرے گروہ یا بیرونی طاقت کو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے انتظامات فلسطینی ریاست کے قانونی اور آئینی دائرے میں ہونے چاہییں اور قومی مفادات کو کسی بھی قسم کے گروہی مفادات سے بالاتر رکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق، اگر کوئی حقیقی حل نکالنا ہے، تو اس کا محور فلسطینی عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے منصوبے جو ان کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیں۔